رسائی کے لنکس

logo-print

'ہمارا کیمیکل نہ پینا، کرونا نہیں مرے گا، پینے والا مر جائے گا'


جراثیم کش کیمکلز

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو میڈیا کے ساتھ اپنی معمول کی بریفنگ میں کرونا وائرس کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب جراثیم کش کیمکلز استعمال کیے جاتے ہیں تو وہ ماحول کو پاک صاف کر دیتے ہیں۔ سائنس دانوں کو اس بارے میں بھی تحقیق کرنی چاہیے کہ جسم کے اندر سے کرونا وائرس کی صفائی کے لیے جراثیم کش چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس بیان کے بعد میڈیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کو مارنے کے لیے جراثیم کش کیمیکلز ہرگز نہ پیئیں، کیونکہ اس سے فائدہ نہیں ہو گا، بلکہ ممکن ہے کہ آپ کی جان ہی چلی جائے۔

جراثیم کش کیمکلز کا خود پر تجربہ نہ کرنے کا مشورہ صرف امریکہ کے ڈاکٹر ہی نہیں دے رہے بلکہ یورپی ملکوں کے ماہرین اور سائنس دان بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ صفائی ستھرائی اور جراثیموں کو مارنے کے کیمیکلز بنانے والی کئی کمپنیوں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان کی مصنوعات گھر کی صفائی ستھرائی کے لیے ہیں، پینے کے لیے نہیں۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا کے پروفیسر آف میڈیسن پال ہنٹر نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے اب تک جتنی بھی تجاویز سامنے آ چکی ہیں، یہ تجویز ان میں سب سے زیادہ خطرناک اور غیر ذمہ دارنہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے بھی مریض کے جسم میں جراثیم کش کیمیکلز داخل کرنے کی کوشش کی تو زیادہ امکان یہ ہے کہ مریض مر جائے گا۔

انہوں نے خبررساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ بات ہے اور افسوس کا پہلو یہ ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس قسم کی احمقانہ باتوں پر یقین کر لیتے ہیں اور اسے خود پر آزما سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ تجویز جمعرات کی شام میڈیا سے اپنی گفتگو میں پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ سائنس دانوں کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں بھی ریسرچ کریں کہ کرونا وائرس کے مریضوں کے اندر جراثیم کش شعاعیں گزارنے یا جراثیم کش کیمیکلز دینے سے انہیں وائرس سے پاک کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ میرا خیال ہے کہ کوئی ایسا طریقہ تو ہو گا کہ ہم ایسا کر سکیں، مثلاً انجکشن کے ذریعے جراثیم کش ادویات مریض کے جسم میں داخل کر کے اس کی صفائی کرنا۔ اس بارے میں تجربات کرنا دلچسپ ہو گا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ہوا میں موجود بخارات میں پائے جانے والے وائرس کو ہلاک کرنے کے لیے اس میں سے الٹراوائلٹ شعاعیں گزاری جاتی ہیں۔ یہ شعاعیں جراثیم کش ہوتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں ہے کہ انسانی جسم سے الٹرا وائلٹ شعاعیں گزار کر کرونا وائرس کو ہلاک کیا جا سکے۔

کنگزکالج لندن میں فارما سیوٹیکل میڈیسن کی پروفیسر پینی وارڈ کہتی ہیں کہ نہ دھوپ میں بیھٹنے سے اور نہ ہی خود کو گرم کرنے سے کرونا وائرس کو مارا جا سکتا ہے، بلکہ وہ تو مسلسل مریض کے جسم کے اندر نشوونما پاتا اور اپنی تعداد بڑھاتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر اگر آپ صفائی کرنے والا کیمیکل بلیچ پیتے ہیں تو مرجائیں گے، اگر اس کا انجکشن لگاتے ہیں تو زیادہ جلدی مر جائیں گے۔ لہذا، ایسا ہرگز ہرگز نہ کریں۔

عام گھروں میں استعمال ہونے والاجراثیم کش کیمیکل ڈیٹول اور لیسول بنانے والی کمپنی ریکٹ بن چکسر نے صدر ٹرمپ کی جانب سے کرونا وائرس کے علاج کے لیے جراثیم کش کیمیکلز استعمال کرنے کی تجویز کے فوراً بعد ایک انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی مصنوعات گھریلو استعمال کے لیے ہیں، انہیں منہ یا انجکشن کے ذریعے جسم میں ہرگز ہرگز داخل نہ کیا جائے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ میں وبائی امراض سے متعلق شعبے کے پروفیسر اور ڈائریکٹر پیراسٹو ڈانیائی نے صدر ٹرمپ کے بیان کو غیرسائنسی اور حیرت انگیز قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی وبا کوویڈ 19 کے متعلق لوگ بہت پریشان ہیں اور اس پر صرف تجریہ کار ڈاکٹروں اور ادویات کے ماہرین کو ہی بات کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں کسی کو غیر ذمہ دارانہ تبصرے نہیں کرنے چاہیئں۔

برکلے میں قائم یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں پبلک پالیسی کے پروفیسر اور امریکہ کے سابق وزیر محنت رابرٹ ریچ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پریس بریفنگز سے صحت عامہ کو غیر معمولی نقصان پہنچ رہا ہے۔ براہ مہربانی کوئی بھی شخص جراثیم کش کیمکلز نہ پیئے۔

ڈانیائی اس سے قبل صدر ٹرمپ کے ایک بیان پر یہ کہہ چکی ہیں کہ ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ کچھ لوگوں نے غیر سائنسی بیانات سے امیدیں باندھ کر کلوروکوین استعمال کر کے خود کو نقصان پہنچایا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایک کیمیکل کے بارے میں پڑھ کر اسے پینے سے ایران میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس نے میڈیا پر جاری اس بحث پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ میڈیا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG