رسائی کے لنکس

logo-print

کینیڈا: ہم جنس پرستوں کا جنسی رجحان تبدیل کرنے پر پابندی کی تجویز


(فائل فوٹو)

کینیڈا کی حکومت نے جنسی رجحان تبدیل کرنے کے عمل 'کنورژن تھراپی' کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے پارلیمان میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں اس عمل پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔

کنورژن تھراپی کے ذریعے ہم جنس پرستوں کی مخالف جنس میں دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مذکورہ بل کے ذریعے کینیڈا کے کرمنل کوڈ میں پانچ نئے قوانین کا اضافہ ہو گا جن کے تحت بچوں کی جنس تبدیل کرانے پر پابندی ہو گی۔

بل کے تحت کسی بالغ شخص کی کنورژن تھراپی بھی اس وقت تک نہیں کی جا سکے گی جب تک وہ خود اپنی اس خواہش کا اظہار نہ کرے۔

اس کے علاوہ نہ ہی کوئی اس عمل کو مالی منفعت کے لیے استعمال کر سکے گا اور نہ ہی اس کی تشہیر کی اجازت ہو گی۔

کینیڈین وزیرِ انصاف ڈیوڈ لامیٹی نے پارلیمان میں بل پیش کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ اگر مجوزہ بل منظور ہو جاتا ہے تو کینیڈا کے کنورژن تھراپی سے متعلق قوانین سب سے زیادہ ترقی پسند اور جامع بن جائیں گے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ جنس کی تبدیلی نہ صرف متاثرہ افراد کو بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ یہ عمل جنسی رجحان اور صنفی شناخت کے بارے میں دقیانوسی تصورات پھیلانے میں مدد کرتا ہے۔ ان تصورات میں یہ سوچ بھی شامل ہے کہ جنسی رجحان اور صنفی شناخت کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔

ایریکا نامی ایک خاتون اپنے بچپن میں کنورژن تھراپی سے گزر چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا جسم ایک قید خانہ ہے اور یہ سب اس عمل کی وجہ سے ہے جو تھراپسٹ نے ان کے ساتھ کیا ہے۔

ایریکا نے کہا کہ میں اسی کیفیت کے ساتھ اپنا ہر دن گزار رہی ہوں۔

قانون کے تحت 'کنورژن تھراپی' کی تعریف یہ ہے کہ کوئی ایسا عمل یا علاج جس کے ذریعے کسی فرد کے جنسی رجحان کو مخالف جنس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے بدلا جا سکے۔

ایک حالیہ سرکاری سروے کے مطابق 47 ہزار کینیڈین مردوں نے جنہیں اقلیتی جنسی گروہ کے طور پر شناخت کیا گیا تھا وہ کنورژن تھراپی کرا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG