رسائی کے لنکس

logo-print

شام: القامشلی کار بم دھماکے میں وائس آف امریکہ کا نمائندہ بال بال بچا


وائس آف امریکہ کی ترک اور کرد سروس کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شام کے سرحدی علاقے تل ابیض میں  کئی مقامات سے  دھواں بلند ہو رہا ہے

شام کی مشرقی سرحد کے اندر القامشلی شہر میں ایک بڑا کار بم دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکہ منیر حبیب اسٹریٹ پر اوماری ریسٹورنٹ کے قریب ہوا۔ جس سے عمارتوں میں آگ لگ گئی۔

اس علاقے میں چھ ریسٹورنٹ ہیں۔ وائس آف امریکہ کی کرد سروس کے نمائندے زانا عمر اس وقت دھماکے کے مقام کے قریب موجود تھے۔

وہ کھانا لینے ریسٹورنٹ گئے تھے اور ابھی کار سے نکل کر کچھ دور ہی پہنچے تھے کہ قریب کھڑی کار میں دھماکہ ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی جان بچ گئی لیکن ان کی کار اور اس میں موجود سامان تباہ ہو گیا۔

زانا عمر کی بھیجی ہوئی سیل فون ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے بعد ارد گرد کی کاروں اور عمارت کو آگ لگ گئی ہے جبکہ عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

شام کے شہر القامشلی میں کار بم دھماکے کی وڈیو
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:59 0:00

القامشلی شمال مشرقی شام میں ترکی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس کے ساتھ ترکی کے شہر نصیبن کی سرحدیں ملتی ہیں۔ یہاں سے عراق کی سرحد بھی قریب ہے۔

شام کے سرحدی قصبوں راس العین اور تل ابیض میں بھی جمعے کو ترکی کی فوجی کارروائی جاری رہی۔

وائس آف امریکہ کی ترک اور کرد سروس کے نمائندوں کی بھیجی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شام کے سرحدی علاقے تل تل ابیض میں کئی مقامات سے دھویں کے مرغولے بلند ہو رہے ہیں۔

علاقے میں ترک فوج کے ہیلی کاپٹر اڑتے دیکھے گئے ہیں۔

شام کی شمال مشرقی سرحد کے اندر ترکی کی فوجی کارروائی جاری ہے
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:46 0:00

دوسری طرف نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے ترکی میں صدر طیب اردوان اور وزیر خارجہ مولود کاووسوگلو سے ملاقات کی ہے، اور امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد شمالی شام میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ترکی کی فوجی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔ مگر یہ تسلیم کیا کہ انہیں اپنی سلامتی سے متعلق ترکی کو لاحق خدشات کا اندازہ ہے۔

امریکہ کی جانب سے علاقے سے اپنی فوج نکالنے کے اعلان کے فوری بعد ترکی کی فضائی اور زمینی افواج نے علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے ۔ ترکی کرد قیادت میں لڑنے والی سیرین ڈیموکریٹک فورس کے خلاف اس کارروائی کو انسداد دہشت گردی آپریشن قرار دیتا ہے۔ امریکہ نے شام کی جنگ کے دوران اس جنگجو ملیشیا کو امداد فراہم کی تھی۔

ترک وزیر دفاع نے جمعے کو فوجی کارروائی کے تیسرے روز لڑائی میں پہلی ہلاکت اور تین فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کارروائی میں سویلین ہلاکتیں بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔ لیکن، ان کی تعداد کے بارے میں ابھی مصدقہ اطلاعات موجود نہیں۔

چونسٹھ ہزار افراد علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
چونسٹھ ہزار افراد علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

ایک عالمی امدادی ادارے کے مطابق، چونسٹھ ہزار افراد علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔ ترک سرحد کے دونوں جانب مارٹر فائر کئے جانے سے شہری ہلاکتوں اور لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سرحدوں اور کرد قیادت میں لڑنے والی سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان ایک ’محفوظ زون‘ قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG