رسائی کے لنکس

شام کے سرحدی قصبے میں بم دھماکہ، 18 افراد ہلاک


فائل فوٹو

شام کے ایک شمالی قصبے میں ہفتے کے روز ایک بم دھماکہ ہوا جس کی زد میں آ کر کم از کم 18 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔

صوبہ حلب کا الباب نامی یہ قصبہ اس وقت ترکی کے کنٹرول میں ہے۔

شام کے شمالی حصے میں پچھلے ایک مہینے کے دوران کئی بم دھماکے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

ترک فورسز اس علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ترکی کا کہنا ہے کہ کرد جنگجوؤں کے ترکی میں باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث کردستان کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والی ورکرز پارٹی کے ساتھ رابطے ہیں۔

ترکی نے اپنی سرحد سے ملحق شام کے شمالی علاقے میں فوجی آپریشن صدر ٹرمپ کی جانب سے علاقے سے اپنے فوجی دستے فوری نکالنے کے اعلان کے بعد شروع کیا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ 30 کلومیٹر کا علاقہ کرد جنگجوؤں سے خالی کروا کر وہاں ایک محفوظ زون قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں شام کے ان لاکھوں پناہ گزینوں کو بسایا جائے گا جو اس وقت ترکی میں ہیں۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ، سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا ہے کہ انہیں ملنے والی معلومات کے مطابق بم حملے میں 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 13 عام شہری ہیں۔

حلب کے میڈیا سینٹر نے بتایا ہے کہ 15 افراد قصبے کے ایک بس اڈے میں دھماکے سے ہلاک ہوئے۔

ترکی کی وزارت داخلہ نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18 بتاتے ہوئے اس کا الزام کرد ملیشیا، پیپلز پروٹیکشن یونٹس پر لگایا ہے۔

ایک ایکٹیوسٹ گروپ، الباب سٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں کئی گاڑیوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ایک کشادہ سڑک پر گاڑیوں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ان سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ بس اڈے کے اندر کئی منی بسیں بھی دکھائی دے رہی ہیں جنہیں دھماکے سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

ترک فوج شام کی سرحد کے ساتھ 70 میل لمبی اور 30 میل چوڑی پٹی میں اپنا قبضہ مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ اب خالی کرائے گئے زون سے آگے بڑھ کر کرد جنگجوؤں کو مزید پیچھے دھکیلنے کی کارروائیاں کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG