رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: چین کے قونصل خانے پر حملے کے پانچ گرفتار ملزمان پر فردِ جرم عائد


کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چینی قونصل خانے پر حملے کے الزام میں گرفتار پانچ ملزمان پر فردِ جرم عائد کردی ہے۔ تاہم پانچوں گرفتار ملزمان نے ان الزامات سے انکار کیا ہے جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے ہے جو بلوچستان کو آزاد ملک بنانے کے لیے مسلح کارروائیاں کر رہی ہے۔

چینی قونصل خانے پر حملے کا مقدمہ بھی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق بی ایل اے کو غیر ملکی خفیہ ادارے کی حمایت حاصل ہے اور حملے کا مقصد پاک چین تعلقات کو خراب کرنا بتایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں نو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ کیس میں گرفتار ملزمان کے نام عبدالطیف، محمد حسنین، نادر خان عرف عارف بلیدی، ہاشم عرف علی احمد اور محمد اسلم مغیری بتائے گئے ہیں۔

سرکاری وکلا کا الزام ہے کہ کراچی میں چينی قونصليٹ پر حملے میں ملوث پانچ ملزمان کو بھارتی خفیہ ایجنسی را سے مالی معاونت بھی ملی۔ تاہم بھارت کی جانب سے اس الزام کو جھوٹ اور گھٹیا قرار دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دورانِ تفتیش بتایا تھا کہ 23 نومبر 2018 کو چینی قونصلیٹ پر دہشت گرد حملے کے لیے اسلحہ بلوچستان سے ریل کے ذریعے کراچی لایا گیا تھا۔ اور یہ اسلحہ بلدیہ ٹاؤن کے ایک گھر میں چھپایا گیا جس کے بعد گاڑی کے ذریعے ملزمان چینی قونصل خانے پہنچے۔

نومبر 2018 میں کراچی کے چینی قونصل خانے پر حملہ ہوا تھا۔
نومبر 2018 میں کراچی کے چینی قونصل خانے پر حملہ ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے حملے کا مقصد چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک منصوبے میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔

پولیس کے دعوے کے مطابق حملے کا منصوبہ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر اسلم بلوچ عرف اچھو نے افغانستان میں بنایا، جسے بھارتی خفیہ ایجنسی کی بھی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔ تاہم حملے کے ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ افغانستان میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوچکا ہے لیکن اس کی ہلاکت کے ٹھوس شواہد حکام کو نہیں ملے ہیں۔

23 نومبر 2018 کو تین دہشت گردوں نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش کی تھی۔ تاہم دہشت گرد ویزا سیکشن سے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے اور پولیس نے تینوں حملہ آوروں کو کارروائی میں ہلاک کر دیا تھا۔

ملزمان کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور چار کلاشنکوفس، دو آئی ای ڈیز، ڈیٹو نیٹرز، ہینڈ گرنیڈ اور گولیاں بھی برآمد ہوئی تھیں۔ حملے کے دوران اسسٹنٹ سب انسپکٹر اشرف داؤد اور کانسٹیبل محمد عامر سمیت دو شہری ہلاک جب کہ سیکیورٹی اہلکار محمد جمن زخمی ہو گیا تھا۔

اسی کیس میں عدالت نے 15 مفرور ملزمان کو گزشتہ سماعت کے موقع پر اشتہاری بھی قرار دے دیا تھا۔ ان میں حربیار مری، اسلم بلوچ عرف اچھو، نور بخش مینگل، کریم مری، رحمان گُل، کمانڈر نصیر، حمل مری، آغا شیر دل اور دیگر شامل ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے بعد مفرور ملزمان کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے دائمی وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

بی ایل اے کیسے وجود میں آئی؟

بلوچ دانشوروں اور ادیبوں کا کہنا ہے کہ 1948 میں ریاست قلات کے پاکستان کے ساتھ ،بقول ان کے، جبری اتحاد کے بعد شہزادہ عبد الکریم اور ان کے ساتھی پہاڑوں کا رخ کر گئے تھے۔

اس وقت سے بلوچ قوم میں یہ احساس زور پکڑتا گیا کہ ریاست کی بحالی کے لیے ایک منظم ترقی پسند سوچ کی حامل سیاسی قوت کی ضرورت ہے جو بلوچ معاشرے میں نظریاتی بنیادوں پر نوجوانوں کی رہنمائی کرے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد بھی کرے اور اس مقصد کے لیے کوششیں جاری تھیں۔

1956 میں بلوچ سیاسی رہنماؤں نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) تشکیل دی۔ اس دوران 1960 میں بلوچوں کو ایک بار پھر ریاست کی پالیسیوں کے باعث پہاڑوں کا رخ کرنا پڑا تاہم بعد میں ریاست سے مذاکرات کے بعد بلوچ رہنما سردار نوروز خان اور ان کے ساتھی پہاڑوں سے نیچے آئے۔ تاہم انہیں گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی۔ جس سے بلوچوں کا غم و غصہ مزید بڑھ گیا۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں 1970 کے انتخابات میں نیپ کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ لیکن اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی حکومت کو ختم کر دیا۔ نیپ کے رہنماؤں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے اور انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت کے اس اقدام کے بعد بلوچ نوجوانوں نے ایک بار پھر پہاڑوں کا رخ کر لیا۔ اس دوران بلوچ نوجوانوں میں یہ سوچ بھی پختہ ہونا شروع ہوئی کہ ریاست کو بلوچوں کی پر امن سیاسی جدوجہد قبول نہیں ہے۔ اس لیے سیاسی پلیٹ فارم کے ساتھ مسلح جدوجہد بھی ضروری ہے۔

اسی سال یعنی 1970 میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) تشکیل دی گئی۔ بی ایل اے سے وابستہ نوجوان 1977 تک صوبے کے مختلف پہاڑوں میں روپوش رہے جب کہ اس دوران مسلح کارروائیاں بھی کیں۔

صوبے میں ہونے والے بیشتر واقعات کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی قبول کرتی آ رہی تھی جس پر وفاقی حکومت نے 2006 میں بی ایل اے پر پابندی عائد کر دی۔

بی ایل اے کی جانب سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ، گوادر میں ہوٹل پر حملے سمیت کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروپس کی جانب سے صرف ایک سال میں 32 حملے کیے گئے جن میں 50 شہری ہلاک اور 87 زخمی ہوئے۔

سال 2017 سے 2019 کے دوران تین سالوں میں مجموعی طور پر صرف 37 حملے رپورٹ ہوئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں چھ بلوچ علیحدگی پسند گروپس فعال ہیں جن میں سے بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ دو بڑے گروپس ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر 32 میں سے 24 حملے کیے ۔

بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے کارروائیاں بڑھنے پر دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا خیال ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے حقوق پامال کیے گئے اور بلوچستان کو جان بوجھ کر ترقی نہیں دی گئی۔

ان کے خیال میں پاکستان میں جو قوتیں برسرِ اقتدار رہی ہیں چاہے وہ فوجی ہوں یا سویلین ہوں انہوں نے بلوچستان کو محروم رکھا اور وہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان سے امتیازی سلوک کرتے رہے۔ اس لیے ان کی سوچ میں محرومی واضح ہے جسے ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے لوگوں کو فیصلہ سازی اور قومی سیاسی دھارے میں بڑی تعداد میں شامل کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG