رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی وزیرستان میں چیک پوسٹوں میں کمی اور پشتو بولنے والے اہل کاروں کی تعیناتی


فائل فوٹو

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ایجنسی جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کی تعداد 32 سے گھٹا کر 8 کر دی گئی ہیں جبکہ ناکوں پر پشتو بولنے والے سیکیورٹی اہل کاروں کو تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی روایات کو ملحوظ رکھا جا سکے اور بات چیت میں آسانی ہو۔

جمعے کے دن صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فرنٹیر کور ساؤتھ کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل عابد لطیف خان نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں حالات اب بہتری کی طرف گامزن ہیں، اس لئے سیکیورٹی چیک پوائنٹس کو کم کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر پر تقریباً 30 کلومیٹر تک باڑ لگا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی آمد ورفت کو روکا جا سکے۔

مقامی صحافی ویصال یوسفزئی کے مطابق بریفنگ میں بتایا گیا کہ مقامی زبان بولنے والے فوجیوں کو ان چوکیوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ مقامی افراد کی مشکلات کو کم کیا جا سکے، جبکہ اگلے ہفتے سے ایجنسی میں موبائل سروس بھی بحال کردی جائے گی۔

انہوں نے افغانستان کی طرف سے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اپنے وسائل کے استعمال سے سیکیورٹی سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنا رہی ہیں۔

انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی ویب سائٹ کے مطابق میجر جنرل عابد لطیف نے کہا کہ اس علاقے میں 2001 سے اب تک 399 بڑے فوجی آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب آئی ایس پی آر نے رابطہ کرنے پر کہا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی بیان جاری نہیں ہوا تاہم کل تک پریس ریلیز جاری کردی جائے گی۔

امن و امان کی صورت حال میں بہتری کی وجہ سے گذشتہ ہفتے بھی مہمند ایجنسی میں چیک پوسٹوں کی تعداد کم کر دی گئی تھی جب کہ کچھ کا انتظام سویلین حکام کو سونپ دیا گیا تھا۔

اسی طرح مالا کنڈ ڈویژن میں بھی 17 میں سے 8 چوکیاں سول انتظامیہ کو سونپ دی گئی ہیں اور چیک پوسٹوں کی تعداد بھی گھٹا دی گئی ہے۔

اس سال کے شروع میں خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پشتون تحفظ تحریک کے نام سے ایک تحریک شروع ہوئی جس نے ریاست سے پشتون علاقوں میں قائم سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر لوگوں کے ساتھ مبینہ ناروا اور غیر مناسب برتاؤ اور سلوک کے خلاف احتجاج کیا۔ تحریک کے دیگر مطالبات میں لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جانا اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف عدالتی کمشن کا قیام بھی شامل ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کی ایک سرگرم کارکن ثناء اعجازپشتون نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ایک دو ایجنسیوں میں ہی نہیں بلکہ پورے فاٹا اور خیبرپختونخوا میں چیک پوسٹوں کا انتظام سول انتظامیہ کے سپرد کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں ۔ پاکستانی آئین کا آرٹیکل 16 پرامن احتجاج کا حق اور آرٹیکل 10 شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے لیکن ہمیں ان حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔

مذاكرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ثنا اعجاز کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے ہمیں ہمارے حقوق نہیں دے رہے اور مذاكرات کرنے کا کہہ رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاكرات کرنے بھی ہوئے تو کسی ایسے شخص کے ساتھ کریں گے جس کے پاس اختیارات ہوں۔ ایک پارلیمنٹیرین کے پاس اتنے اختیارات نہیں ہیں کہ ہمارے مطالبات پورے کیے جا سکیں۔

گزشتہ مہینے کے آخر میں حکومت کے تشکیل کردہ ایک روایتی جرگے اور پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین کے درمیان باقاعدہ بات چیت شروع کرنے کے لیے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں قومی اسمبلی کے رکن شاہ جی گل کے حجرے میں ابتدائی بات چیت ہوئی تھی۔

مگر تاحال مذاکرات شروع نہیں ہو سکے، کیونکہ پشتون تحفظ تحریک، ریاستی اداروں پر اپنے کارکنوں کی گرفتاریوں، انہیں ہراساں کیے جانے اور نامعلوم نمبروں سے دھمکی آمیز فون کالز کیے جانے کا الزام لگا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG