رسائی کے لنکس

logo-print

نیوزی لینڈ سے سیریز ہارنے کے بعد قومی ٹیم میں تبدیلیوں کا عندیہ


قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق کوچ مکی آرتھر اور کپتان سرفراز احمد سے مشاورت کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

انضمام الحق کے بقول انٹرنیشنل کرکٹ دراصل پریشر ڈیل کرنے کا نام ہے لیکن ہمارے کھلاڑی چوتھی اننگز کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے قومی کرکٹ ٹیم میں تبدیلوں کا عندیہ دے دیا ہے۔

ہفتے کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انضام الحق نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شکست کی کوئی بھی ذمہ داری نہیں لے رہا۔

پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز 1-2 سے ہار گیا تھا۔ ہارے جانے والے میچوں میں پاکستانی بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی تھی۔

تاہم صحافیوں سے گفتگو میں انضمام الحق کا کہنا تھا کہ شکست کے سب ذمہ دار ہیں۔

ان کے بقول انٹرنیشنل کرکٹ دراصل پریشر ڈیل کرنے کا نام ہے لیکن ہمارے کھلاڑی چوتھی اننگز کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہے۔

چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ آخر میں آنے والے کھلاڑیوں کو بھی اپنی کارکردگی دکھانا ہو گی کیونکہ ٹیل اینڈرز فائٹ نہیں کررہے اور یہ ان کے بقول ایک کمزوری ہے۔

انضمام الحق نے ٹیم میں تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سال سے ایسا ہوتا دیکھ رہے ہیں جس کے لیے اب کام کرنے کی ضرورت ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں انضمام الحق نے اپنے بھتیجے امام الحق کا دفاع کیا جنہوں نے نيوزی لينڈ کے خلاف تين ٹیسٹ ميچوں کي پانچ اننگز ميں مجموعی طور پر 73 رنز بنائے تھے۔

انضمام الحق کا کہنا تھا کہ امام ایک ٹیلنٹڈ کھلاڑی ہے اور اسے پاکستان کے لیے بہت سی کرکٹ کھیلنی ہے۔ ايسے کھلاڑی کی تين چار اننگز خراب ہوں تو شور نہيں مچانا چاہیے۔

قومی ٹیم کے چيف سليکٹر نے مزيد کہا کہ وکٹ کيپر محمد رضوان کو سرفراز پر پريشر کم کرنے کے لیے جنوبی افریقہ کے خلاف اسکواڈ ميں شامل کيا گیا ہے۔

انہوں نے پاکستانی ٹیم کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کو کارکردگی دکھانا ہو گی۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین میچز کی ٹیسٹ سیریز کا آغاز 26 دسمبر سے ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG