رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: غریب گھرانے کے بچوں میں موٹاپے کی کم ہوتی شرح


موٹاپے کی وجہ سے دل کے امراض، ذیابیطیس اور کینسر کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ اگر کوئی بچہ موٹاپے کا شکار ہو تو اس بات کا امکان پانچ گُنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر بھی موٹاپے کی طرف مائل رہے گا۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق امریکہ میں کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں میں موٹاپے کی شرح کم ہونے کے اشارے ملے ہیں۔

امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام اور تدارک ِ امراض سے متعلق ادارے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کی 19 ریاستوں میں دو سے چار برس کے بچوں کے موٹاپے کی شرح میں کمی کا رجحان نوٹ کیا گیا ہے۔ جس سے امریکہ میں بچوں میں پائے جانے والے موٹاپے کی کل شرح میں 0.3 سے 2.6٪ کمی ہوئی ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کے باوجود صورتحال اچھی نہیں دکھائی دیتی اور امریکہ میں دو سے چار برس کے ہر آٹھ میں سے ایک بچے موٹاپے کی طرف مائل ہے۔

ڈاکٹر تھامس فریڈن امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام اور تدارک ِ امراض سے متعلق ادارے سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، ’بچوں میں موٹاپے میں کمی کی شرح بہت کم ہے۔ لیکن گذشتہ چند دہائیوں میں بچوں کے موٹاپے میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا ایسے میں یہ خبر ایک اچھی خبر ہے۔‘

موٹاپے کی وجہ سے دل کے امراض، ذیابیطیس اور کینسر کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ اگر کوئی بچہ موٹاپے کا شکار ہو تو اس بات کا امکان پانچ گُنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر بھی موٹاپے کی طرف مائل رہے گا۔

تحقیق دانوں نے اس تحقیقی جائزے کے لیے غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔

گو کہ اس تحقیق میں بچوں میں موٹاپا ختم ہونے کی وجوہات نہیں بیان کی گئیں لیکن ڈاکٹر تھامس فریڈن کا کہنا ہے کہ خواتین کی نشونما اور بچوں کی صحت سے متعلق پروگراموں کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا ہے۔

ڈاکٹر تھامس فریڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کی خاتون ِ اوّل مشیل اوباما کی جانب سے پری سکول میں “Let’s Move” نامی پروگرام کی وجہ سے بچوں میں نہ صرف صحتمندانہ خوراک کھانے بلکہ جسمانی سرگرمیوں کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG