رسائی کے لنکس

logo-print

فلپائن کے وزیرِ خارجہ کا چین کے لیے ٹوئٹ میں 'نا مناسب' الفاظ کا استعمال


فلپائن کے وزیرِ خارجہ نے پیر کے روز ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ چین کے جہاز متنازع سمندری پانیوں سے نکل جائیں. تاہم، وزیرِ خارجہ نے اس پیغام کے لیے جو زبان استعمال کی ہے، اسے سفارتی آداب کے مطابق 'ناشائستہ' یا 'غیر مناسب' قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی چین کی متنازع سمندری حدود میں سرگرمیوں کے حوالے سے بیجنگ کے ساتھ فلپائن کی الفاظ کی جنگ میں یہ تازہ ترین اضافہ ہے۔

کسی لگی لپٹی کے بغیر کچھ بھی کہہ دینے کے لیے مشہور، فلپائن کے وزیرِ خارجہ تودورو لاکسن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب منیلا میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور وہ فلپائن کے پانیوں میں 200 میل پر مشتمل ایکسکلوسو اکنامک زون میں سیکڑوں چینی کشتیوں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے ٹوئٹ میں ایک ایسا لفظ لکھتے ہوئے، جے سفارتی آداب کے منافی سمجھا جاتا ہے، چین سے کہا، "چین، میرے دوست میں کس طرح اس بات کو نرم زبان میں بیان کر سکتا ہوں۔"

انہوں نے چین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری دوستی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

منیلا میں چین کے سفارت خانے نے اس بیان پر ردعمل کی درخواست کا تاحال جواب نہیں دیا۔

چین کے حکام نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کی کشتیاں وٹسن ریف کے متنازع پانیوں میں ماہی گیری کے مقصد سے موجود ہیں اور سمندر میں طغیانی کے سبب وہاں رکی ہوئی ہیں۔

چین جنوبی چین کے پورے سمندری علاقے پر ملکیت رکھنے کا دعویدار ہے۔ اس سمندر کے راستے ہر سال تین ٹریلین ڈالر کی تجارت کی جاتی ہے۔

سال 2016 میں ہیگ میں ایک مصالحتی ٹریبیونل نے فیصلہ دیا تھا کہ بیجنگ اپنے دعوے کے حق میں جو پرانا نقشہ پیش کرتا ہے وہ بین الاقوامی قوانین کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

پیر کے روز ایک بیان میں فلپائن کی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا کہ چین کے ساحلی گارڈ فلپائن کے بحری جہازوں کا راستہ روک رہے ہیں اور ان کے مواصلاتی رابطوں میں خلل ڈال رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG