رسائی کے لنکس

logo-print

چین کا ہانگ کانگ کے دستور میں ترامیم کرنے پر غور


ہانگ کانگ کے قانون ساز چیمبر میں جمہوریت نواز قانون سازوں کی نشستیں خالی پڑی ہیں۔ 12 نومبر 2020

چین ہانگ کانگ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے بعد اس نیم خود مختارخطے کے دستور میں تبدیلیاں کرنے پر غور کر رہا ہے۔

یہ بات ہانگ کانگ اور مکاو سے متعلق امور کے دفتر کے دپٹی ڈائریکٹر یانگ زیاومنگ نے منگل کے روز بتائی۔

ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آنے والی ترامیم کا مقصد ہانگ کانگ کے بنیادی قانون کو ایک زندہ قانون کے طور پر رکھنا ہے تاکہ یہ قابل تشریح بن سکے۔

بنیادی قانون کے نام سے موسوم ہانگ کانگ کا دستور 1997 میں اس وقت بنایا گیا تھا جب اسے برطانیہ کے سو سالہ نو آبادیاتی حکمرانی کے بعد چین کو واپس دیا گیا تھا۔ اس قانون کو ایک ملک دو نظام کی روح کے تحت بنایا گیا تھا تاکہ اس سے ہانگ کانگ میں غیر معمولی آزادیاں اور آزاد عدلیہ پہلے کی طرح قائم رہ سکیں۔

چار قانون سازوں کی برطرفی کے خلاف ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کا مظاہرہ۔ 10 نومبر 2020
چار قانون سازوں کی برطرفی کے خلاف ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کا مظاہرہ۔ 10 نومبر 2020

لیکن رواں سال جون میں چین نے ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد سلامتی کا ایک نیا قانون بنایا۔ یہ نیا قانون سول سروس کے ممبران اور قانون سازوں کو بنیادی قانون کی پاسداری کا پابند کرتا ہے۔

چینی اہلکار کا یہ بیان ہانگ کانگ کے چارجمہوریت پسند قانون سازوں کے لیجسلیٹو کونسل سے خارج کیے جانے کے ایک ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے

یہ اقدم چین کی قانون ساز کونسل کے اس فیصلے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس کے مطابق کسی بھی ایسے قانون ساز کو جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے، عدالت جائے بغیر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

چار قانون ساز ممبران کے کونسل سے خارج کیے جانے کے بعد پندرہ جمہوریت پسند ممبروں نے اکٹھے استعفی دے دیا۔ اور اب 70 اراکین کی کونسل میں صرف بیجنگ کے حامی قانون ساز باقی رہ گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG