رسائی کے لنکس

logo-print

صدر عمر حسن البشیر کے دورہ چین پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید


صدر عمر حسن البشیر کے دورہ چین پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

چین نے سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کے اپنے ملک میں دورے کا دفاع کیا ہے، جن پربین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے اور عالمی عدالت ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرچکی ہے۔

دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں چین کے اس اقدام پر نکتہ چینی کررہی ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2009ء اور 2010ء میں صدرعمر حسن البشیر کے خلاف دارفر میں قتل، ایذارسانی اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں میں ملوث ہونے کے مقدمات میں گرفتاری کے دو وارنٹ جاری کیے تھے۔

منگل کے روز چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے کہا کہ چین نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے اور انہوں نے 27 سے 30 جون تک کے صدر البشیر کے دورے کو بیجنگ کے ایک طویل عرصے کےاتحادی کا دورہ قرار دیا۔

ترجمان کا یہ بھی کہناتھا کہ صدر البشیر کے بیرونی ملکوں کےاس دورے میں ان کابڑی گرم جوشی سے استقبال کیا جائے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پچھلے ہفتے کہاتھا کہ چین کی جانب سے سوڈان کے صدر کے استقبال سے بیجنگ ان افراد کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا جن پر نسل کشی میں مبینہ کردار اداکرنے کے الزامات ہیں۔

نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ چین کا یہ اقدام بیجنگ کی طرف سے دارفر میں ظلم و زیادتی کے شکار افراد کے لیے ایک منفی پیغام ثابت ہوگا۔

XS
SM
MD
LG