رسائی کے لنکس

logo-print

چین کی اسلحہ ساز کمپنیاں چوٹی کی 100 صنعتوں کی فہرست میں آگے


فائل فوٹو

سال2018 کیلئے دنیا کی 100 اعلیٰ ترین کمپنیوں میں تمام کی تمام چینی کمپنیاں ہیں اور پہلی بار چینی کمپنیوں نے امریکہ کی سات بڑی کمپنیوں کو اس فہرست سے باہر نکال دیا ہے۔

2001 کے بعد سے اس فہرست میں پہلی بار دفاعی ساز و سامان بنانے والی کمپنیاں بھی شامل ہو گئی ہیں; اور سب سے بڑی 15 کمپنیوں میں سے چھ چین کی ایسی کمپنیاں ہیں جو دفاعی ساز و سامان بناتی ہیں اور انہیں برآمد کرتی ہیں۔

اگرچہ چینی دفاعی کمپنیوں کی پیداوار کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عمومی طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا، 2018 کے دوران ان 100 چینی کمپنیوں کی اسلحے کی فروخت سے آمدنی 4 کھرب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

ان میں سے آٹھ سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی مجموعی آمدنی 97 ارب ڈالر رہی۔ یوں، چین کی دفاعی صنعت امریکہ سے کچھ ہی پیچھے رہ گئی ہے اور یہ حجم کے اعتبار سے لگ بھگ تمام تر یورپ کے برابر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کی تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے باعث خریدار ملکوں کیلئے یہ انتخاب مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کا دفاعی ساز و سامان امریکہ سے خریدیں یا پھر چین سے۔

دنیا میں صرف امریکہ اور چین ہی دو ایسے ملک ہیں جو اپنا تیار کردہ اسلحہ برآمد نہ بھی کریں تو اندرون ملک مانگ کو پورا کرتے ہوئے بھی اپنی آمدنی کا معیار برقرار رکھ سکتی ہیں۔ ان کے مقابلے میں روسی اور یورپی کمپنیوں کو اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے برآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ لہذا، دیگر ممالک کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو مقابلے بازی میں مات کھا جانے کا حقیقی خطرہ درپیش ہے۔

اس وقت چینی اسلحے کے بڑے خریدار ممالک میں پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، الجزائر، میانمار اور خلیج کی ریاستیں شامل ہیں۔ چینی اسلحے کی برآمدات کا 36 فیصد پاکستان خریدتا ہے، جن میں زیادہ تر JF-17 تھنڈر جہاز ہیں جو چین اور پاکستان مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG