رسائی کے لنکس

امریکی کانگریس: سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت روکنے کی قراردادیں منظور


فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی تین قراردادیں منظور کر لی ہیں۔

ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو آٹھ ارب 10 کروڑ ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی مخالفت میں کثرت رائے سے ووٹ دیا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کانگریس میں قراردادیں منظور ہونے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کے اس فیصلے کو ویٹو کر دیں گے۔

واضح رہے کہ کانگریس ارکان کی اکثریت سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل میں مبینہ طور پر سعودی حکومت کے ملوث ہونے کی وجہ سے سعودی عرب سے خائف ہیں۔ اسی لیے انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے لیے تین قراردادیں منظور کیں۔

اس موقع پر ایوان کے رِی پبلکن رُکن نے قراردادوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے، ایسے وقت میں ان قراردادوں کا منظور ہونا خطرناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اپنی دہشت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ہم نے اس کو کامیاب ہونے کی اجازت دے دی تو دہشت گردی اور عدم استحکام بڑھے گا اور ہمارے اسرائیل جیسے اتحادیوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیمو کریٹ ارکان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں یمن میں کیا چل رہا ہے، امریکہ کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اس بارے میں کوئی مؤقف لے۔

سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب، متحدہ عرب اِمارات اور اردن کو آٹھ ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی سینیٹ نے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روکنے کے لیے تین قراردادیں منظور کی تھیں۔ سینیٹ میں سات ری پبلکن اراکین نے بھی صدر ٹرمپ کی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

کانگریس کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے بعد اب یہ معاملہ وائٹ ہاؤس جائے گا۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ کانگریس کا یہ فیصلہ ممکنہ طور پر اپنے صدارتی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ویٹو کر دیں گے۔

امریکی صدر سعودی عرب، متحدہ عرب اِمارات اور اُردن کو ایسے وقت ہتھیار فروخت کرنا چاہ رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت یمن میں جاری جنگ کو بڑھاوا دے گی جہاں سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ ایران کو مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کانگریس کو نظر انداز کر کے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG