رسائی کے لنکس

logo-print

کرائسٹ چرچ حملے میں نو پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق


پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو کرائسٹ چرچ میں ہونے والے حملے میں نو پاکستانیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 50 ہو گئی ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے پاکستانیوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ کو ایک ٹویٹ میں چھ پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جن میں سید اریب، محبوب ہارون، سہیل شاہد، سید جہانداد علی، نعیم رشید اور طلحہ نعیم شامل تھے۔

وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ تین پاکستانی `لاپتا‘ ہیں۔

اتوار کو اپنی دوسری ٹویٹ میں ڈاکٹر فیصل نے ہلاک ہونے والوں کے مزید تین افراد کے نام بتائے ہیں جن کے نام ذیشان رضا، ان کے والد غلام حسین اور ان کی والدہ کلثوم بی بی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مزید چار پاکستانی زخمی ہیں جن کا علاج جاری ہے۔

کرائسٹ چرچ حملے میں 50 افراد ہلاک

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے جبکہ 39 افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اتوار کو پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ ’دونوں مساجد سے تمام لاشوں کو نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے اور اس دوران ہمیں اس حملے کا نشانہ بننے والے ایک اور فرد کی لاش ملی۔‘

کرائسٹ چرچ میں جمعے کو ہونے والے حملے کے بعد امدادی کارکن لاپتا افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔

​دوسری جانب مشتبہ حملہ آور کو ہفتہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ آسٹریلوی شہری ہیں اور اپنے آپ کو سفید فام نیشنلسٹ کہلاتے ہیں۔

عدالت میں جب انھیں پیش کیا گیا تو دو مسلح گارڈ اُن کے ساتھ تھے اور عدالت نے اُن پر قتل کے الزامات عائد کیے ہیں۔ عدالت میں موجود صحافیوں کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور عدالت میں مسکراتا رہا۔

مقدمے کی آئندہ سماعت پانچ اپریل کو ہو گی۔

اس حملہ آور کے علاوہ دو اور مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

کرائسٹ چرچ حملے میں ملوث حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد میں سے کوئی بھی آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ میں دہشت گردی سے متعلق واچ لسٹ میں شامل نہیں ہے۔

برینٹن نے کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں فائرنگ کے وقت اپنے ہیلمٹ پر کیمرا لگا رکھا تھا جس سے اس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 17 منٹ تک حملے کی ویڈیو براہِ راست نشر کی تھی۔

یہ ویڈیو حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شئیر ہوتی رہی۔

دوسری جانب فائرنگ میں زخمی ہونے والے 39 افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں 11 کی حالت نازک ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی میتوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کا عمل اتوار سے شروع ہو گا اور ان کی کوشش ہو گی کہ تمام میتیں بدھ تک لواحقین کے سپرد کر دی جائیں۔

جمعے کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد النور اور قریبی علاقے لِن وڈ کی مسجد میں فائرنگ سے 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی تاریخ میں دہشت گردی کا یہ بد ترین اور سب سے بڑا واقعہ تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر ہونے پر بھی دنیا بھر میں دکھ اور افسوس کے اظہار کے ساتھ ساتھ کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG