رسائی کے لنکس

logo-print

کرائسٹ چرچ حملے کی ویڈیو 17 منٹ تک براہِ راست نشر ہوئی


نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازِ جمعہ کے دوران فائرنگ کے مرکزی ملزم پر قتل کی فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔

ملزم کی شناخت 28 سالہ آسٹریلوی شہری برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ کے نام سے ہوئی ہے جسے حکام نے ہفتے کو مقامی عدالت میں پیش کیا۔

برینٹن نے کرائسٹ چرچ کی النور مسجد میں فائرنگ کے وقت اپنے ہیلمٹ پر کیمرا لگا رکھا تھا جس سے اس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 17 منٹ تک حملے کی ویڈیو براہِ راست نشر کی تھی۔

یہ ویڈیو حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شئیر ہوتی رہی۔

ملزم کی فائرنگ سے مسجد النور میں 41 جب کہ قریبی علاقے لِن وڈ کی مسجد میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فائرنگ میں 48 افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن میں سے ایک دورانِ علاج چل بسا تھا۔

نیوزی لینڈ کی تاریخ میں دہشت گردی کا یہ بد ترین اور سب سے بڑا واقعہ تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر براہِ راست نشر ہونے پر بھی دنیا بھر میں دکھ اور افسوس کے اظہار کے ساتھ ساتھ کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

اس حملے کی براہِ راست ویڈیو سب سے پہلے فیس بک پر لائیو نشر ہوئی تھی جس کے بعد اسے کئی دیگر صارفین نے ٹوئٹر، وٹس ایپ اور انسٹاگرام پر بھی شئیر کردیا تھا۔

فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ویڈیو کو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور جیسے ہی پولیس کی طرف سے انہیں اس کی اطلاع ملی تھی، انہوں نے فوراً حملہ آور کے اکاؤنٹ سے ویڈیو ہٹا دی تھی۔

ٹوئٹر اور گوگل کے مطابق وہ اس ویڈیو کو دوبارہ شئیر کرنے کے عمل کو ہر ممکن طور پر روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انتہاپسندی پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم 'کاؤنٹر ایکسٹریم ازم پراجیکٹ' کی ایک مشیر لیوسنڈا کریٹن کا کہنا ہے کہ کرائسٹ چرچ حملہ ایک مثال ہے کہ کس طرح انتہا پسند سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فیس بک پر حملے کی ویڈیو 17 منٹ تک براہِ راست نشر ہوتی رہی لیکن اسے کوئی روک نہیں سکا۔

ان کے بقول انتہا پسند ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جسے وہ استعمال کر کے اپنا نفرت انگیز نظریہ اور تشدد پھیلا سکیں۔ پلیٹ فارمز اس کی روک تھام تو نہیں کر سکتے لیکن اس طرح کے مواد کو روکنے اور پھیلانے سے بچنے کے لیے ان پلیٹ فارمز کو مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

کرائسٹ چرچ کی مساجد میں فائرنگ کرنے والے ملزم نے حملے کی ویڈیو براہِ راست نشر کرنے کے لیے موبائل فون کی ایک ایپ 'لائیو 4' استعمال کی تھی جس کے ذریعے صارفین اپنے جسم پر لگے کیمروں کی ویڈیوز براہِ راست فیس بک پر نشر کر سکتے ہیں۔

یہ ایپ زیادہ تر خطرناک کرتب دکھانے والے کھلاڑی استعمال کرتے ہیں لیکن جمعے کو اس ایپ کا بہیمانہ استعمال کیا گیا۔

اس ایپ کے ذریعے نشر ہونے والی حملے کی ویڈیو بالکل کسی ویڈیو گیم کا سا تاثر دے رہی تھی جس میں ایک شخص نمازیوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنا رہا تھا۔

'لائیو 4' کے بانی اور چیف ٹیکنالوجی افسر ایلکس زوخوف کا کہنا ہے کہ ان کی ایپ کے ذریعے بنائی جانے والی ویڈیو براہِ راست فیس بک پر شیئر ہوجاتی ہے اور ان کی کمپنی کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ اس ویڈیو کو پہلے چیک کرسکیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے ایلکس زوخوف کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی ایپ کے ذریعے نشر ہونے والی ویڈیوز کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتی اور نہ ہی ان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ ویڈیوز کے نشر ہوتے وقت یا اس کے بعد ان کا جائزہ لے سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG