رسائی کے لنکس

logo-print

شام: ترک فوج کی کارروائی میں 29 جنگجو اور 10 شہری ہلاک


ہزاروں شامی شہریوں کی جنگ زدہ علاقے سے نقل مکانی، اقوام متحدہ کا ترکی سے یکطرفہ کارروائی فوری روکنے کا مطالبہ

شام میں تشدد کی صورت حال پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق ترک فوج کی شام میں کردوں کے خلاف کارروائی کے دوران اب تک 29 جنگجو اور 10 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترکی کی شام میں کردوں کے خلاف نو اکتوبر سے شروع ہونے والی فضائی کارروائی کے بعد زمینی کارروائی بھی جاری ہے جس میں اسے شامی باغیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اِن جھڑپوں کے نتیجے میں سرحدی علاقے میں آباد ہزاروں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

سیرین آبزرویٹری کے مطابق ترک فورسز اور اس کے اتحادیوں نے 11 دیہات پر قبضہ کر لیا ہے جب کہ کردوں کے زیر کنٹرول علاقے 'تل ابیاد' میں شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق، شام کے مغربی علاقے 'راس العین' میں بھی چھڑپیں ہو رہی ہیں جو کردوں کا دوسرا بڑا ٹھکانہ ہے۔

سیرین آبزرویٹری کے مطابق ترک فورسز اور اس کے اتحادیوں نے 11 دیہات پر قبضہ کرلیا ہے۔
سیرین آبزرویٹری کے مطابق ترک فورسز اور اس کے اتحادیوں نے 11 دیہات پر قبضہ کرلیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ترکی اور اس کے اتحادیوں کی کردوں سے شام میں 120 کلو میٹر کے علاقے میں لڑائی ہو رہی ہے، جب کہ جمعرات کو ترکی کے لڑاکا طیاروں نے تازہ کارروائی کی تھی۔

یاد رہے کہ کرد ملیشیا شام سے داعش کے خاتمے کے لیے امریکہ کے اتحادی تھے۔ تاہم، امریکی صدر نے چند روز قبل شام سے امریکی فوج کا انخلا یقینی بنایا ہے جس پر ان کے عرب اتحادیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ انہوں نے شام سے داعش کا سو فی صد خاتمہ کر دیا ہے اور ترکی کے حملے سے قبل امریکہ کا کوئی فوجی وہاں موجود نہیں تھا۔

اُن کے بقول، انہوں نے شام میں زبردست کام کیا ہے اور اب ترکی کردوں پر حملے کر رہا ہے اور یہ 200 سال سے ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

شام کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا جس کے دوران سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے ترکی کی شام میں فوجی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل یورپی رکن ممالک نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر شروع کی جانے والی کارروائی کو فوری طور پر روکے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ترکی کے آپریشن کے بعد تقریباً 70 ہزار شامی شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔

کردوں کے اکثریتی شہر 'کمشلی' سے نقل مکانی کرنے والے 33 سالہ ریزان محمد کا کہنا ہے کہ وہ بمباری اور شدید جھڑپوں کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG