رسائی کے لنکس

logo-print

آب و ہوا کی تبدیلی پر عالمی کانفرنس ختم، واضح فیصلے نہ ہو سکے


گلوبل وارمنگ کے خلاف سرگرم کارکن میڈرڈ کانفرنس ہا کے باہر سست پیش رفت پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔

آب و ہوا کی تبدیلی پر اقوام متحدہ کی سب سے طویل کانفرنس اتوار کے روز میڈرڈ میں ختم ہو گئی جس میں شریک ممالک نے اگلے سال کاربن گیسوں کے اخراج میں مزید کمی کرنے کے وعدے تو کیے لیکن اہم شعبوں میں واضح فیصلوں کا اعلان ملتوی کر دیا۔

ناقدین نے امریکہ سمیت دنیا کے کئی بڑے ملکوں پر یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ آب و ہوا کی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے بحران کو روکنے کی جانب پیش قدمی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

تاہم اس طویل عالمی کانفرنس میں کچھ وعدے اور کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ یورپی یونین نے پچھلے ہفتے اس وعدے پر اتفاق کیا کہ وہ 2050 تک کاربن گیسوں کا اخراج صفر کی سطح پر لے آئیں گے، تاہم ایک یورپی ملک پولینڈ نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

کانفرنس کے مندوبین نے کاربن گیسوں کے اخراجات میں اضافہ روکنے پر اتفاق تو کیا، لیکن اس بارے میں وہ کوئی واضح ہدف دینے میں ناکام رہے۔ اسی طرح کاربن گیسوں کے اخراج سے متعلق مارکیٹ کے قوانین اور غریب ملکوں کو گلوبل وارمنگ روکنے کی جانب راغب کرنے کے لیے مالی امداد پر کے اصول اور قواعد بھی طے نہیں کیے جا سکے۔ جس سے اگلے سال ملکوں پر دباؤ میں اضافہ ہو گا جب 2015 کی پیرس کانفرنس کے معاہدوں پر عمل درآمد کا آغاز ہو گا۔

گلوبل وارمنگ کے خلاف سرگرم کارکن 16 سالہ گریٹا تھن برگ کانفرنس میں شریک ہیں۔
گلوبل وارمنگ کے خلاف سرگرم کارکن 16 سالہ گریٹا تھن برگ کانفرنس میں شریک ہیں۔

کانفرنس کی تقاریر میں ان انتباہی اشاریوں کو عمومی طور پر نظر انداز کر دیا گیا جن کا تعلق کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے سمندروں کی سطح کے بڑھنے، موسموں میں شدت آنے اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے ہے۔ حتی کہ اس اہم ترین پہلو کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج مسلسل بڑھ کر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔

ناقدین نے اس کا ذمہ دار برازیل اور امریکہ کو قرار دیا جو اگلے سال پیرس معاہدے سے نکل رہے ہیں جس نے میڈرڈ کانفرنس کی پیش قدمی کا راستہ روک دیا ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلی پر عالمی کانفرنس میں پیش رفت نہ ہونے پر مایوس سرگرم کارکنوں نے میڈرڈ میں کانفرنس ہال کے باہر مظاہرہ کیا۔

ورلڈ وائلد لائف فنڈ نے بھی بڑے ملکوں کو موود الزام ٹہرایا کہ انہوں نے مذاکرات کو یرغمال بنایا اور سائنس کے نتائج سے متضاد پوزیشن اختیار کی۔ انہوں نے حقیقی زندگی کے شواہد اور سرگرم کارکنوں کی جانب سے آب و ہوا کی تبدیلیاں روکنے کے لیے مطالبوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں سویڈن کی 16 سالہ سرگرم کارکن گریٹا تھن برگ نے دنیا کے مللکوں پر الزام لگایا کہ وہ کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھانے کا سبب بننے والی گیسوں کا اخراج روکنے کے معاملے میں چالاکیاں دکھا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG