رسائی کے لنکس

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے گائے کی 'پوٹی ٹریننگ'


سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گائے کو 'پوٹی ٹریننگ' کرانے سے سامنے آنے والے نتائج بالکل ایسے ہی ہیں جیسا آپ ایک تین برس کی عمر کے بچے سے توقع کرتے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے سائنسدان کہتے ہیں کہ وہ گائے کی 'پوٹی ٹریننگ' کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق نیوزی لینڈ اور جرمن محققین کی ٹیم نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ گائے کی 'پوٹی ٹریننگ' کا خیال ایک مذاق کے طور پر شروع ہوا تھا لیکن ایسا کرنے سے ماحول کو دیرپا فائدہ ہو سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ کی آکلینڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈوگس ایلیف کا کہنا ہے کہ "اگر ہم گائے کا 10 سے 20 فی صد پیشاب بھی جمع کر لیتے ہیں تو یہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور ماحول میں نائٹریٹ کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لیے کافی ہو گا۔"

انہوں نے کہا کہ گائے کے فضلے میں موجود نائٹروجن وقت کے ساتھ ساتھ دو مختلف مادوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک نائٹرس آکسائیڈ جس کو ایک طاقت ور گرین ہاؤس گیس سمجھا جاتا ہے جب کہ دوسرا نائٹریٹ ہے جو مٹی میں جمع ہونے کے بعد جھیل اور ندیوں میں شامل ہو جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نائٹرس آکسائیڈ عالمی سطح پر ہونے والے گرین ہاؤس گیس کے اخراج کا پانچ فی صد ہے اور نیوزی لینڈ کے مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 10 فی صد سے کم ہے جس کی نصف سے زائد مقدار مویشیوں سے منسلک ہے۔

گرین ہاؤس گیسز دراصل کرہ ارض کے درجۂ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹرس آکسائیڈ، میتھین اور صنعتوں سے خارج ہونے والی دیگر گیسیں شامل ہیں۔​

جرمن محققین کے ساتھ مل کر کام کرنے والے سائنس دان کہہ رہے ہیں کہ وہ گائے کو بیت الخلا کے لیے مختص جگہ پر پیشاب اور فضلہ خارج کرنے کے بدلے انہیں کھانے کے طور پر انعام بھی دیتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گائے کو 'پوٹی ٹریننگ' کرانے سے سامنے آنے والے نتائج بالکل ایسے ہی ہیں جیسا آپ ایک تین برس کی عمر کے بچے سے توقع کرتے ہیں۔

ڈوگس ایلیف کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق رواں ہفتے 'دی جرنل کرنٹ بائیولوجی' میں شائع ہوئی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گائے کی بیت الخلا کی ٹریننگ کرنا ممکن ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اب چیلنج یہ ہے کہ بڑے ریوڑوں میں موجود گائے کو تربیت دی جائے جو اپنا زیادہ تر وقت باہر کھلی فضا میں گزارتے ہیں۔

'اے ایف پی' کے مطابق نیوزی لینڈ میں گرین ہاؤس گیس کے اخراج کا نصف کاشت کاری کی وجہ سے ہے اور یہ زیادہ تر نائیٹرس اور میتھین کی شکل میں ہوتا ہے۔

نیوزی لینڈ کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ میتھین مُلک کے گرین ہاؤس اخراج کا تقریباً 43.5 فی صد ہے۔

گائے، بھینس، دنبے اور دیگر جانوروں کا نظامِ ہاضمہ مختلف ہوتا ہے۔ خوراک حاصل کرنے کے بعد یہ جانور میتھین گیس کا اخراج کرتے ہیں۔
گائے، بھینس، دنبے اور دیگر جانوروں کا نظامِ ہاضمہ مختلف ہوتا ہے۔ خوراک حاصل کرنے کے بعد یہ جانور میتھین گیس کا اخراج کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ گائے، بھینس، دنبے اور دیگر جانوروں کا نظامِ ہاضمہ مختلف ہوتا ہے۔ خوراک حاصل کرنے کے بعد یہ جانور میتھین گیس کا اخراج کرتے ہیں۔

نیوزی لینڈ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس میں میتھین کا اخراج کم کرنے والے مویشیوں کی افزائش، ایسی خوراک کا استعمال جس سے میتھین کا اخراج کم ہو۔ حتیٰ کے مویشیوں کو ویکسین بھی لگائی جاتی ہے تا کہ مضر گیسز کا اخراج کم سے کم کیا جا سکے۔

اس رپورٹ میں مواد خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے لیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG