رسائی کے لنکس

پاکستان کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں، کلنٹن


27 اکتوبر، وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کانگریس کی امورخارجہ کمیٹی کے سامنے افغانستان اور پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے۔
27 اکتوبر، وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کانگریس کی امورخارجہ کمیٹی کے سامنے افغانستان اور پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے۔

پچھلے ہفتے سی آئی اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریس کے ساتھ پاکستان کے دورے میں انہوں نے ایک متفقہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت کو ایک ہوکر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا احترام کرتا ہے۔ جمعرات کے روز کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کی ایک سماعت میں ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ امریکیوں کے لیے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان نے اپنے 5000 فوجیوں کی قربانی دی ہے اور ہزاروں پاکستان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے ہفتے سی آئی اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریس کے ساتھ پاکستان کے دورے میں انہوں نے ایک متفقہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت کو ایک ہوکر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی, انکو سرحد کے دونوں پار سے بھگانا ہوگا اور انکی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنا ہونگی۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ہم نے پاکستانیوں کو بتادیا کہ یہ کام بہت اہم ہے اور اسے جلد از جلد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کے اس بارے میں دونوں فریقین نے کھل کر تفصیلی بات چیت کی۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ وہ اِس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ سماعت میں موجود منتخب نمائندوں کو افغانستان اور پاکستان سے متعلق پالیسی پر تشویش ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن اوراُن کےچوٹی کے متعدد ساتھی ہلاک ہوچکے ہیں۔اُن کے بقول، اب بھی دہشت گردی کا خطرہ باقی ہے، خصوصاً القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں کی طرف سے۔ تاہم، گروپ کی اعلیٰ لیڈرشپ تباہ کی جا چکی ہے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی اُس کی طاقت گھٹائی جاچکی ہے۔

افغانستان سے متعلق، وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اب بھی امریکہ کو ایک مشکل لڑائی کا سامنا ہے۔ تاہم، اتحادی اور افغان افواج نے کلیدی علاقوں میں طالبان کی طاقت کا پانسا پلٹ چکی ہیں۔

اُن کے بقول، افغان سلامتی فورسز کو ابھی ایک طویل سفر کرنا ہے، تاہم وہ روز بروز مزید ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جب کہ ملک کو اب بھی غربت اور بدعنوانی کے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، اُن کے بقول، ترقی کے لیے ہماری کوششوں کےباعث ملک کی معیشت اور عام زندگی میں بہتری آئی ہے۔

اعداد و شمار کی طرف دھیان مبذول کراتے ہوئے، اُن کا کہنا تھا کہ دس برس قبل، افغان اسکولوں میں دس لاکھ طالب علم رجسٹرڈ تھے، جو سارے کے سارے لڑکے تھے۔ اب، یہ تعداد بڑھ کر 70لاکھ ہوگئی ہے، جِس میں سے تقریباً 40فی صد لڑکیاں ہیں۔

XS
SM
MD
LG