رسائی کے لنکس

'وثوق سے نہیں کہا جاسکتا لاک ڈاؤن 14 اپریل کو ختم ہوگا یا نہیں'


وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ اُنہیں اصل خطرہ اس بات سے ہے کہ کرونا وائرس کہیں کچی آبادیوں میں نہ پھیل جائے۔

پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا لاک ڈاؤن 14 اپریل کے بعد ختم ہوگا یا نہیں، وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم اُن کا کہنا ہے ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ لاک ڈاؤن کو زیادہ عرصہ برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال سے متعلق 'پوسٹ لاک ڈاؤن' حکمتِ عملی اور ایس او پی تیار کیے جا رہے ہیں۔

ان کے بقول، صوبائی حکومت نے عوام کی جان کے تحفظ کے لیے لاک ڈاؤن کیا اور اس سے بہت زیادہ نہ صحیح، مگر صورتِ حال بہتری کی جانب گامزن ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اُنہیں اصل خطرہ اس بات سے ہے کہ کرونا وائرس کہیں کچی آبادیوں میں نہ پھیل جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اس وبا پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

اُن کے مطابق کچی آبادیوں میں سماجی فاصلے اس طرح نہیں رکھے جاسکتے جیسے متوسط طبقے کے لوگ رکھ سکتے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے اب تک سندھ کی کچی آبادیاں اس وائرس کے پھیلاؤ سے محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے لوگوں کے معمولاتِ زندگی کو فرق تو پڑا ہے۔ تاہم اس کے نفاذ کو بہتر کیا جا رہا ہے اور ابھی فتح کے اعلان کا وقت نہیں آیا۔​

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ صوبے میں صحتِ عامہ کی سہولیات اتنی اچھی نہیں ہیں۔ ہم کس حد تک اس وبا کو قابو کر سکتے ہیں، اسے مدِ نظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا۔

ان کے بقول کوشش ہے کہ کرونا وائرس سے صحت عامہ کے نظام کو گرنے نہ دیں۔ یقیناً ہم نے اس وائرس سے سبق تو سیکھا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک بھی اس وائرس کے ہاتھوں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

'صوبے کو وینٹی لیٹرز کی کمی کا سامنا ہے'

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے جس حد تک ممکن ہو، ہم اپنی صحت کی سہولیات کو بڑھا رہے ہیں۔ 100 بیڈز کا اسپتال تیار ہے جب کہ کوشش کی جارہی ہے کہ اس میں مزید توسیع بھی کی جاسکے۔

وزیرِ اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ صوبے کو وینٹی لیٹرز کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے بقول، وینٹی لیٹرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ تاہم جب سے وائرس نے سر اٹھایا ہے۔ وینٹی لیٹرز کی جس قدر تعداد ممکن تھی، وہ ہم نے حاصل کر کے اسپتالوں میں لگا دییے ہیں۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ اب تک 21 وینٹی لیٹرز خرید کر اسپتالوں میں لگائے گئے ہیں۔ جب کہ مزید کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ جس میں اس مقصد کے لیے جامعات کے ساتھ مل کر کام کرنے کے علاوہ اور بھی آپشنز زیرِ غور ہیں۔

'دسمبر 2019 کے بعد کی دنیا مختلف ہے'

انہوں نے وفاقی حکومت کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ لاک ڈاؤن کو 14 اپریل تک بڑھانا ٹھیک اقدام ہے اور ان اقدامات کا مقصد وائرس کا پھیلاؤ روکنا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ یہ صورتِ حال زیادہ عرصے برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسی لیے لاک ڈاؤن کے بعد کے لیے ایک ایس او پی تیار کی جارہی ہے۔ جس میں کاروباری مراکز، صنعتیں، دکانیں، اسکول، عبادت گاہیں اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ان کی مشاورت سے ایس او پیز بنانا شامل ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جب تک کرونا وائرس کی ویکسین اور علاج دریافت نہیں ہوجاتا، اس وقت تک زندگی گزارنے کے طریقوں کو تبدیل کرنا ہوگا اور یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ 31 دسمبر 2019 کے بعد کی دنیا پہلے کی دنیا سے مختلف ہے اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جزیروں پر نہیں بلکہ اسی دنیا پر رہنے والے ہیں اور ہمیں اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہر سطح پر تیار رہنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے سماجی فاصلہ اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی عادت ڈالنا ہو گی۔

'لاک ڈاؤن کا مقصد لوگوں کی جان کا تحفظ ہے'

لاک ڈاؤن کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا؟ اس سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے قبل ہر جماعت کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ لیکن حکومت سے لوگوں کو بعض توقعات بھی ہیں۔ جو ہونے بھی چاہیے اور میری بھی کوشش ہے کہ صوبے کے ہر شخص کے گھر پر راشن پہنچاؤں۔ جسے راشن کی ضروت ہے لیکن ہماری بھی کچھ مجبوریاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تنقید سے نہیں گھبراتے، مگر تنقید کرنے والوں سے درخواست ہے کہ تنقید ایسی نہ ہوجو نقصان دہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کا بنیادی مقصد عوام کی جان و مال بچانا ہی تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگ خوف کی وجہ سے زیادہ راشن جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا رش لگتا ہے۔ جو کہ نقصان دہ اور ہمارے ہی فیصلوں کے خلاف ہوگا۔

پاکستان میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟
پاکستان میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟

وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وہ اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتے کہ لاک ڈاؤن اس مسئلے کا حل نہیں ہے اور وہ دوسروں کی رائے کا بھی احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے مگر ان کے خیال میں اگر لاک ڈاؤن نہ کیا جاتا تو صورتِ حال مزید گھمبیر ہونے کا خطرہ تھا۔

ان کے بقول وہ وزیرِ اعظم سمیت وفاقی حکومت کے ساتھ ہونے والی کئی میٹنگز میں شریک رہے ہیں اور سب کی کوشش ہے کہ اس وباء سے نمٹا جائے۔ لیکن وفاق اور صوبائی حکومت کی ترجیحات میں فرق ہوسکتا ہے، ہماری ترجیح صنعت اور معیشت سے زیادہ لوگوں کی جان کا تحفظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق بتاتی ہے کہ اسپینش فلو کی وبا میں جن ممالک نے پہلے لاک ڈاؤن کیا تھا۔ وہ اس کے اثرات سے زیادہ محفوظ رہے اور ان ممالک کی معیشت نے زیادہ بہتر پرفارم کیا۔ ہمارے فیصلے میں سب کی رائے کے ساتھ ماہرین کی رائے بھی شامل تھی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جب صوبائی حکومت نے ملک میں سب سے پہلے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تو ہمارے ذہن میں کوئی دن متعین نہیں تھے کہ یہ کتنے دن جاری رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG