رسائی کے لنکس

سندھ میں نماز جمعہ کے اجتماعات پر پانچ اپریل تک پابندی عائد


کراچی کی ایک مسجد میں جراثیم کش اسپرے کیا جارہا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں کرونا وائرس کے پھیلاو کے پیش نظر نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ باجماعت نماز ادا کرنے کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ بعض علمائے کرام نے اس فیصلے کی تائید جبکہ بعض نے اس فیصلے کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے مساجد میں نمازیں معمول کے مطابق پڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سےجاری کردہ نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اس خدشے کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ مذہبی مقامات پر اجتماعات کے باعث سماجی فاصلہ رکھنا اور دیگر حفاظتی انتظامات ممکن نہیں ہوتے، اور یوں، وائرس سے متاثر ہونے اور اموات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اس ضمن میں مذہبی رہنماوں اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے بھی رائے لی تھی، جنہوں نے متفقہ طور پر یہ رائے دی ہے کہ اگر طبی بنیادوں کے لئے حکومت ضروری سمجھے تو باجماعت نماز کی ادائیگی کے لئے تعداد پر پابندی عائد کر سکتی ہے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق، حکومت نے طبی ماہرین کی رائے اور علمائے کرام کی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ صوبے میں قائم مساجد میں صرف تین سے پانچ افراد کو ہی، جن میں امام مسجد، موذن اور مسجد کے متولی شامل ہوں، انہیں ہی باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ عام عوام علمائے کرام کی ہدایات اور رہنمائی کی روشنی میں گھروں پر ہی نماز ادا کریں گے۔

نوٹی فیکیشن کے مطابق، یہ پابندیاں اسی طرح دیگر مذاہب کے ہر قسم کے اجتماعات پر بھی لاگو ہوں گی۔ اس نوٹی فیکیشن میں ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے مزید احکامات یا ہدایات جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔

نوٹی فیکیشن کے تحت اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی، اور یہ احکامات 5 اپریل تک لاگوں ہوں گے۔

ادھر صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک اہم اور مشکل فیصلہ تھا۔ لیکن اس کا مقصد عوام کی جان اور ان کی صحت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ بحالت مجبوری کیا ہے۔ ناصر شاہ کے مطابق وہ تمام علمائے کرام کے مشکور ہیں، جنہوں نے اس بارے میں حکومت سندھ کو اپنی رائے سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل فیصلے میں حکومت کا ساتھ دیں فیصلے پر عمل کریں اور حکومت سندھ کی وائرس کے پھیلاو کو روکنے میں مدد کریں۔

دارالعلوم کراچی کے مہتمم اور معروف عالم دین، مفتی تقی عثمانی نے سندھ حکومت کی جانب سے اس پابندی کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ مسجد میں نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود رکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس فیصلے پر کوئی مزاحمت یا مخالفت نہیں کرتے اور صوبائی حکومت کی اس ہدایت کے پابند ہیں، کیونکہ یہ کسی ضد یا انا کی بنا پر نہیں بلکہ وبا کے بڑھتے ہوئے خطرات میں طبی ماہرین کی روشنی میں یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔

تاہم، چئیرمین رویت ہلال کمیٹی اور تنظیم المدارس اہلسنت، مفتی منیب الرحمان نے جمعہ المبارک اور نماز پنجگانہ معمول کے مطابق جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نماز اسلامی شعائر ہے اور اسلامی شعائر کو مطلقاً منسوخ یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کی سربراہی میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں جامعہ الازہر کے اس فتوے پر اطلاق نہیں ہوا جو صدر عارف علوی کی درخواست پر جامعہ کے علما کی سپریم کونسل نے جاری کیا ہے، جس میں کرونا وائرس کے پیش نظر لوگوں کو گھروں میں نماز پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے۔

مفتی منیب الرحمان کے مطابق، اس اجلاس میں بدھ کو کراچی میں تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کے اس اعلامیے سے اتفاق کیا گیا تھا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سمیت تمام نمازیں معمول کے مطابق ادا کی جاتی رہیں گی، جبکہ اس اعلامیے کے مطابق صرف بیمار افراد کو ہی مساجد میں آنے سے منع کیا گیا تھا۔

منیب الرحمان کے مطابق، صدر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی یہ موقف اپنایا کہ ملک میں معروضی حالات کے مطابق یہی فیصلہ قابل عمل ہے جس سے وفاقی مذہبی امور اور صدر مملکت نے بھی اتفاق کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG