رسائی کے لنکس

بازیابی سے ایک سال قبل سے پاکستان میں رکھا گیا: کولمین


کیٹلان کولمین اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ (فائل فوٹو)

کینیڈا کے ایک اخبار 'ٹورنٹو اسٹار' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کولمین نے کہا ہے کہ اس وقت ہر کوئی الزامات کا تبادلہ اور دعوے کر رہا ہے لیکن ان میں سے کوئی بات بھی درست نہیں۔

رواں ماہ افغان سرحد سے متصل پاکستانی قبائلی علاقے سے اپنے شوہر اور تین بچوں سمیت بازیاب کرائی گئی امریکی شہری کیٹلان کولمین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بازیابی سے ایک سال قبل ہی پاکستان کے علاقے میں اپنے اغوا کاروں کی تحویل میں تھیں۔

کینیڈا کے ایک اخبار 'ٹورنٹو اسٹار' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کولمین نے کہا ہے کہ اس وقت ہر کوئی الزامات کا تبادلہ اور دعوے کر رہا ہے لیکن ان میں سے کوئی بات بھی درست نہیں۔

اپنی بازیابی کے بعد دیے گئے پہلے انٹرویو میں کولمین نے کہا کہ "پاکستان کہتا ہے کہ وہ آخر (بازیابی) تک پاکستان میں کبھی نہیں تھے۔ امریکہ کہتا ہے نہیں وہ ہمیشہ سے پاکستان میں تھے اور یہ پاکستان کی ذمہ داری تھی، لیکن ان میں سے کوئی (دعویٰ) بھی درست نہیں ہے۔"

کولمین اور ان کے کینیڈین شوہر جوشوا بوئیل کو 2012ء میں افغانستان سے عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا اور ان کی تحویل میں ہی اس جوڑے کے ہاں تین بچوں کی پیدائش ہوئی۔

پاکستانی فوج کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کی معلومات پر 11 اکتوبر کو اس غیر ملکی خاندان کو اس وقت بازیاب کرایا گیا جب اغوا کار انھیں افغانستان سے پاکستان منتقل کر رہے تھے۔

تاہم گزشتہ ہفتے ہی امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ مائیک پومپیو کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اغوا کے بعد اس مغوی خاندان کو پانچ سال تک اغوا کاروں نے پاکستان میں ہی رکھا تھا۔

پاکستان نے پومپیو کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل تو ظاہر نہیں کیا لیکن ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس بارے میں فوج اور دفترِ خارجہ تفصیل بتا چکے ہیں اور کارروائی کو امریکہ کی طرف سے بھی خوب سراہا گیا۔ لہذا سی آئی اے کے سربراہ کا بیان باہمی اعتماد کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوگا۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سینئر صحافی و تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کولمین کی طرف سے سنائی گئی روداد میں صداقت ہو سکتی ہے لیکن اس بارے میں حتمی طور پر ابھی کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

"یہ بالکل ممکن ہے اگر یہ ایک خاندان کے طور پر اکٹھے رہ رہے تھے تو یہ بھی ممکن ہے کہ ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کہاں پر ہیں حالانکہ ان کے لیے زبان کا مسئلہ تھا۔ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔۔۔ چیزیں آہستہ آہستہ سامنے آتی ہیں۔ اب ان کی جو باتیں ہیں اور ان کے خاوند بوئیل کی باتوں میں کیا یکسانیت ہے اور پھر جو امریکی بات کر رہے ہیں اور پاکستانی حکام مختلف باتیں کر رہے ہیں تو اس کی وجہ سے ابہام پیدا ہوتا ہے کہ یہ مخلتف آرا کیوں ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ کسی ایک نتیجے تک پہنچنا فی الحال مشکل ہے۔"

کولمین نے اوٹاوا میں دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ انھیں پاکستانی قبائلی علاقے میران شاہ اور افغانستان کے علاقے سپن غر میں بھی رکھا گیا۔

انھوں نے بھی اپنے شوہر جوشوا بوئیل کے اس دعوے کو دہرایا کہ دوران تحویل عسکریت پسندوں نے انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کے ایک نومولود بچے کو ہلاک بھی کر دیا۔

طالبان جنسی زیادتی اور نومولود کے قتل کے ان دعوؤں کو مسترد کرچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG