رسائی کے لنکس

عمر شریف: 'سب کو خوش رکھنے والا آج ساری دنیا کو سوگوار چھوڑ گیا'


کامیڈی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ و اداکار، مصنف اور میزبان عمر شریف جرمنی میں انتقال کر گئے۔

فلم، اسٹیج اور ٹیلی ویژن کی دنیا میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنا نام بنانے والے عمر شریف کافی عرصے سے عارضہ قلب، گردے اور دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے۔

عمر شریف کو چند روز قبل بذریعہ ایئر ایمبولینس علاج کے لیے امریکہ روانہ کیا گیا تھا لیکن طبیعت کی خرابی کی وجہ سے وہ جرمنی کے اسپتال میں زیرِ علاج تھے جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

عمر شریف کے پاسپورٹ میں درج تاریخِ پیدائش کے مطابق وہ دو جنوری 1960 کو کراچی میں پیدا ہوئے جب کہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کی عمر 66 برس تھی۔

عمر شریف کو چند روز قبل علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا گیا تھا۔
عمر شریف کو چند روز قبل علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا گیا تھا۔

عمر شریف کے والد ایک کانٹریکٹر تھے جب کہ والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ ایک انٹرویو میں عمر شریف کا کہنا تھا کہ بچپن ہی سے انہیں لطیفے سنانے اور لوگوں کی نقلیں اتارنے کا شوق تھا جو آگے جا کر ان کے کام آیا۔

ستر کی دہائی میں جب ٹیلی ویژن پاکستان میں مقبول ہو رہا تھا تو اس وقت عمر شریف نے اس زمانے کے دیگر کامیڈین کی طرح آڈیو کیسٹ کے ذریعے خود کو متعارف کرایا۔

چونکہ عمر شریف معروف کامیڈین منور ظریف سے بہت متاثر تھے اس لیے انہوں نے اپنا نام محمد عمر سے 'عمر ظریف' اور بعد میں 'عمر شریف' رکھ لیا جو آگے جا کر ان کی پہچان بن گیا۔

آڈیو کیسیٹ کے بعد انہوں نے اسٹیج کا رخ کیا اور اسی کی دہائی میں 'ففٹی ففٹی' اور 'ون مین شو' جیسے پروگراموں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

لیکن ان کی مقبولیت کی اصل وجہ ان کے اسٹیج ڈرامے تھے جنہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے حد مقبولیت ملی۔

ایک انٹرویو کے دوران عمر شریف کہنا تھا کہ ان کے ڈرامے 'بکرا قسطوں پر' کے بدلے بالی وڈ کی فلم 'شہنشاہ' کے ویڈیو رائٹس پاکستان میں دیے گئے تھے جو ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔

عمر شریف کے ڈرامے 'بکرا قسطوں پر' کے کئی پارٹ ریلیز ہوئے جو آج بھی شائقین میں کافی مقبول ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ڈرامے 'یس سر عید'، 'نو سر عید'، 'بڈھا گھر پر ہے '، 'دلہن میں لے کر جاؤں گا' اور 'دلہا 2002' کو بھی بے حد پذیرائی ملی۔

انہوں نے نا صرف اپنے زمانے کے بہترین اداکاروں معین اختر، مظفر نرالا اور ابراہیم نفیس کے ساتھ کام کیا بلکہ انہوں نے شکیل صدیقی، سکندر صنم، سلومی اور ان جیسے کئی اداکاروں کو بھی اسٹیج پر متعارف کرایا۔

عمر شریف نے 20 برسوں کے دوران لاتعداد اسٹیج ڈرامے اور لائیو شوز میں پرفارم کیا۔

یہی نہیں سن 1986 میں فلم 'حساب' کے ذریعے اپنا فلمی کریئر شروع کرنے والے عمر شریف نے نوے کی دہائی میں ایسی کامیڈی فلمیں بھی بنائیں جنہیں صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی پسند کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کم فلمیں کرنے کے باوجود انہوں نے دس نگار ایوارڈز بھی جیتے۔

ان کی فلموں کی وجہ سے نوے کی دہائی میں پاکستان میں سنیما کلچر دوبارہ شروع ہوا۔

'مسٹر 420' میں تین بچھڑے ہوئے بھائیوں کا کردار ہو، 'مسٹر چارلی' میں ایک پولیس مخبر کا یا پھر 'آوارگی' میں ایک بگڑے ہوئے نوجوان کا کردار ، عمر شریف نے بخوبی نبھایا۔

پرائیوٹ ٹی وی چینل پر ان کا ڈرامہ 'پردہ نہ اٹھاؤ' بھی کافی پسند کیا گیا تھا جس میں انہوں نے ایک ایسے مصور کے دوست کا کردار ادا کیا تھا جو جس شخص کی بھی تصویر بناتا تھا اس کا انتقال ہو جاتا تھا۔

اس کے علاوہ عمر شریف نے ٹی وی پر بھی کئی پروگراموں کی میزبانی کی جس میں 'دی شریف شو' کافی مقبول ہوا۔ عمر شریف نے ڈراموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں کئی پاکستان کلچر شوز بھی کیے۔

ان کا شمار پاکستان ہی کے نہیں بلکہ برصغیر کے ان فن کاروں میں ہوتا تھا جن کے مداح جہاں جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی تھی، وہاں موجود تھے۔

عمر شریف کے برجستہ جملوں اور مزاحیہ اداکاری کی وجہ سے صرف پاکستان میں ہی نہیں بھارت میں بھی انہیں کامیڈی کنگ مانا جاتا تھا۔

کپل شرما کا کامیڈی شو ہو یا اکشے کمار کی کامیڈی اداکاری سب ہی عمر شریف کو اپنا استاد مانتے تھے۔ عمر شریف نے بھارت میں بھی کئی اسٹیج شوز میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔

تقریباً پانچ دہائیوں تک شوبز میں راج کرنے والے عمر شریف کی وفات پر دنیا بھر موجود ان کے مداح، فن کار، سیاست دان اور دیگر مقبول شخصیات رنج و غم کا اظہار کر رہی ہیں۔

پاکستانی گلوکار علی ظفر نے عمر شریف کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کے ان کے پاس الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔

اداکار ہمائیوں سعید نے کامیڈین عمر شریف کے انتقال پر شدید رنج کا اظہار کیا اور کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کامیڈی کے بادشاہ ہیں۔

اداکار ہارون شاہد نے عمر شریف کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے پر آپ کا بہت شکریہ۔

اداکار فیصل قرشی نے عمر شریف کے انتقال پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمر شریف ہماری انڈسٹری کے لیے بے حد قیمتی تھے۔ انہوں نے عمر شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے دعا بھی کی۔

اداکارہ ثناء جاوید نے نے کہا کہ عمر شریف ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ "سب کو خوش رکھنے والا آج ساری دنیا کو سوگوار چھوڑ گیا۔" انہوں نے عمر شریف کے لواحقین کے لیے دعا بھی کی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ناز بلوچ نے بھی عمر شریف کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ "لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے والا آج سب کو اداس کر گیا۔ عمر شریف پاکستانی اسٹیج، فلم اور ٹی وی کا ایک بڑا نام تھا۔ اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG