رسائی کے لنکس

logo-print

سال 2020 میں بچھڑنے والے پاکستانی فن کار


سال 2020 کئی حوالوں سے دنیا کے لیے کوئی اتنا اچھا سال ثابت نہیں ہوا۔ جہاں کرونا وبا کی وجہ سے لاکھوں افراد زندگی کی بازی ہار گئے وہیں کئی اہم شخصیات اور فن کی دنیا سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

پاکستان میں بھی کئی فن کار کرونا وبا، حادثات اور دیگر بیماریوں کے باعث اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر دنیا سے رُخصت ہو گئے۔

امان اللہ، 6 مارچ

مارچ کے مہینے میں پاکستان میں کنگ آف کامیڈی کے طور پر شہرت رکھنے والے امان اللہ لاہور میں انتقال کر گئے۔

70 سالہ امان اللہ طویل عرصے سے گردوں اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ مرحوم کو نہ صرف حکومتِ پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا گیا بلکہ طویل عرصے تک اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کی وجہ سے انہیں دنیا بھر میں پذیرائی بھی ملی۔

اطہر شاہ خان (جیدی)، 10 مئی

ممتاز مزاحیہ شاعر، ڈرامہ نگار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے معروف اداکار اطہر شاہ خان ’’جیدی‘‘ بھی اسی سال لاکھوں مداحوں کو روتا چھوڑ گئے۔ وہ کئی برس سے شوگر اور گردوں کے مرض میں مبتلا تھے۔

جیدی کے سپرہٹ ڈرامے 'ہیلو ہیلو'، 'جانے دو'، 'باادب باملاحظہ ہوشیار' وغیرہ آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

'انتظار فرمائیے' کے ذریعے اطہر شاہ خان 'جیدی' بنے اور ساری دنیا میں مقبول ہو گئے۔ انہیں حکومتِ پاکستان نے 2001ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا۔

زارا عابد، 22 مئی

مئی کے مہینے میں کراچی میں پیش آنے والے بدقسمت طیارہ حادثے میں معروف ماڈل زارا عابد بھی شامل تھیں۔

ٹاپ ماڈلز میں شمار ہونے والی باصلاحیت زارا عابد کی موت سے فیشن انڈسٹری کو بہت بڑا نقصان پہنچا، انہیں چوتھے ہم ایوارڈز میں 'بہترین خاتون ماڈل' کے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جب کہ وہ عظیم سجاد کی فلم 'چودھری' کے ذریعے اداکاری کے میدان میں بھی قدم رکھنے والی تھیں۔

مرزا اختر شیرانی، 9 جون

اسٹیج اور ٹی وی کے سینئر اداکار اختر شیرانی بھی اسی سال انتقال کر گئے، وہ کافی عرصے سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔

ساتھی اداکار عمر شریف کے ساتھ اسٹیج ڈرامے 'بکرا قسطوں پر' میں لازوال اداکاری کی وجہ سے لوگ ان کے کردار 'مرزا' کی وجہ سے انہیں مرزا جی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

شکیل سہیل، 11 جون

کئی کامیاب فلمی نغمات اور پاپ گانوں کے تخلیق کار اور معروف نغمہ نگار شکیل سہیل بھی 55 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

انہوں نے نہ صرف ٹی وی ڈراموں کے ٹائٹل ٹریک لکھے بلکہ گلوکار شیراز اپل کے تمام گانوں کے بول لکھے، اسی سال ختم ہونے والے ڈرامے 'یہ دل میرا' کا او ایس ٹی انہوں نے ہی لکھا تھا جو ناظرین میں بے حد مقبول ہوا۔

طارق ملک، 11 جون

پاکستان ٹیلی ویژن کے مقبول ڈرامے 'گیسٹ ہاؤس' میں 'مراد' کا کردار ادا کرنے والے اداکار طارق ملک بھی اس سال انتقال کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان کا انتقال حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا۔

اداکار افضل خان عرف جان ریمبو کے ساتھ ان کی جوڑی ناظرین میں بے حد مقبول ہوئی تھی۔

صبیحہ خانم، 13 جون

ماضی کی مقبول اداکارہ صبیحہ خانم بھی رواں سال طویل علالت کے بعد امریکہ میں انتقال کر گئیں۔

پاکستان فلم انڈسٹری کی ٹاپ اداکارہ کی عمر 84 سال تھی اور وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں۔

صبیحہ خانم نے 1950 سے لے کر 1990 تک کئی یادگار فلموں میں اداکاری کی، 50 اور 60 کی دہائی میں صبیحہ خانم اور ان کے شوہر سنتوش کمار کی جوڑی کو فلمی دنیا میں کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔

اسی اور 90 کی دہائی میں انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور ڈراموں 'احساس' اور 'دشت' میں بھی اداکاری کی۔

طارق عزیز، 17 جون

دل کو چھو لینے والی آواز سے پاکستان میں ٹیلی ویژن نشریات کا آغاز کرنے والے طارق عزیز بھی اس سال جدا ہو گئے۔ 45 سال سے زائد عرصے تک لوگوں کو 'نیلام گھر' کے ذریعے معلومات فراہم کرنے والے مشہور ٹی وی کمپیئر اور میزبان نے فلموں اور ٹی وی میں بھی اداکاری کی جب کہ ریڈیو پر بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔

اس کے علاوہ وہ ایک شاعر اور ادیب بھی تھے، جنہوں نے کچھ عرصہ سیاست میں بھی گزارا۔ 84 برس کی عمر میں اُن کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے ہوا۔

مرزا شاہی، 29 ستمبر

فلموں اور ڈراموں کے سینئر اداکار مرزا شاہی بھی عالمی وبا کرونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے۔

انہوں نے 1965 میں اردو فلم 'بہانا' کے ذریعے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا اور بعد میں 'چکوری'، 'چھوٹے صاحب' اور 'نوکر ووٹی دا' میں بھی کام کیا۔ موجودہ نسل انہیں جیو ٹی وی کے مقبول پروگرام 'نادانیاں' کے چچا کمال کی وجہ سے جانتی ہے جب کہ پی ٹی وی پر ان کا ڈرامہ 'عید ٹرین' آج بھی شائقین کو یاد ہے۔

فردوس بیگم، 16 دسمبر

رواں ہفتے معروف فلمی اداکارہ فردوس بیگم 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، ماضی کی شہرۂ آفاق فلم ’ہیر رانجھا‘ کی ’ہیر‘ کو تین روز قبل برین ہیمرج کی تشخیص کے بعد لاہور کے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

انہوں نے 20 اردو فلموں کے ساتھ لاتعداد پنجابی فلموں میں بھی کام کیا جن میں 'ملنگی'، 'ہیر رانجھا'، 'انسانیت' اور 'بے قرار 'قابلِ ذکر ہیں۔

XS
SM
MD
LG