رسائی کے لنکس

لندن میں مودی مخالف مظاہروں کے دوران بھارتی پرچم کی توہین


لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر پر بھارتی وزیراعظم مودی کے خلاف مظاہرین پر کنٹرول کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ 20 اپریل 2018

وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ وہ لندن میں دولت مشترکہ ممالک کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت اور دو طرفہ مذاكرات کر رہے ہیں۔ لیکن لندن میں ان کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔

بدھ کے روز جب وہ اپنی برطانوی ہم منصب تھریسا مے سے مذاكرات کر رہے تھے تو بھارت میں عورتوں، دلتوں اور اقلیتوں پر مبینہ مظالم کے خلاف کئی تنظیموں کی جانب سے پارلیمنٹ اسکوائر پر مظاہرے کیے گئے۔ اس دوران بعض گروپ تشدد پر اتر آئے اور انہوں نے اس مقام پر ایک ستون سے بھارت کا قومی پرچم اتارا اور اسے پھاڑ دیا جہاں دولت مشترکہ 53 ملکوں کے پرچم آویزاں کیے گئے تھے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اس پر شديد ناراضی ظاہر کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ اس واقعہ پر ہمیں بہت تکلیف ہے۔ اس معاملے کو برطانیہ کے سامنے سختی سے اٹھایا گیا ہے۔ اس نے اظہار افسوس کیا اور فوری طور پر دوسرا پرچم نصب کر دیا گیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جو لوگ اس میں ملوث تھے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

برطانوی وزارت خارجہ اور دولت مشترکہ دفتر کے ترجمان نے کہا کہ لوگوں کو پرامن احتجاج کا حق ہے۔ لیکن ہم پارلیمنٹ اسکوائر پر ایک چھوٹی اقلیت کے اس حرکت پر مایوس ہیں۔ ہم نے فوراً بھارتی ہائی کمشنر سے رابطہ قائم کیا۔

مودی مخالف مظاہروں میں شامل سکھ فیڈریشن برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ پر بھارت نے ضرورت سے زیادہ رد عمل ظاہر کیا۔ پرچم اتارنے کا مقصد مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج تھا۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ میں اس واقعہ کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔ دورے کو کور کرنے گئی ایک بھارتی خاتون صحافی لوینا ٹنڈن نے کہا کہ مظاہرہ کے دوران اسے دھمکایا گیا۔ اس نے بدترین احتجاج دیکھا۔

بھارت کی صحافتی انجمنوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG