رسائی کے لنکس

logo-print

ڈاکٹر فیصل سلطان: 'پاکستان میں کرونا ویکسین سے متعلق بھی منفی پروپیگنڈے کا خدشہ ہے'


ڈاکٹر فیصل سلطان

وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کہتے ہیں پاکستان میں بہت جلد کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہو گی جو مرحلہ وار لوگوں کو لگائی جائے گی۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ دیگر ادویات یا ویکسین کے منفی پروپیگنڈے کی طرح کرونا ویکسین کے بارے میں بھی پاکستان میں منفی پروپیگنڈا ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا اور اِس کے پھیلاؤ میں اتنے عوامل کارفرما ہیں کہ اس کے پھیلاؤ میں اُتار چڑھاؤ یا وبا کے عروج کا تعین سپر کمپیوٹر بھی نہیں کر سکتا۔

کرونا کی دوسری پر ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کا عروج کب تک آئے گا۔

ان کے بقول کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسکولوں کی بندش سمیت، شادی ہالز میں ان ڈور سرگرمیوں کی بندش جیسے اہم اقدامات کیے گئے۔ لہذٰا ان اقدامات سے لامحالہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگلے چند دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان میں کیسز کی شرح کیا ہو گا اور معاملات کیا رُخ اختیار کر رہے ہیں۔

سیاسی سرگرمیاں اور کرونا وائرس

ڈاکٹر فیصل سلطان سمجھتے ہیں کہ ملک میں جاری سیاسی سرگرمیاں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کا سبب بن سکتی ہیں۔

اُن کے بقول ایک جانب حکومت وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کوشاں ہے، لیکن دوسری جانب جلسوں کی وجہ سے وائرس پھیلنے کے خطرات ہیں جس سے کیسز کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کہتے ہیں کہ جلسوں میں لوگ ایک دوسرے کے پاس پاس کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ ماسک کا استعمال نہیں کر رہے اور جب وہ واپس اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو خدشہ رہتا ہے کہ وائرس بھی گھر لے آئے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کی رائے میں وبا کے دنوں میں لیڈروں کا پیغام بہت اہم ہوتا ہے۔ وبا کے شروع کے دنوں میں وزیرِ اعظم عمران خان کو کہا گیا کہ آپ ماسک پہنیں۔ جنہوں نے ہماری بات کو مانا ماسک کا استعمال باقاعدگی سے شروع کر دیا۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر وزیرِ اعظم ماسک پہنیں گے تو لوگوں کو یہ پیغام جائے گا کہ اُنہیں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

پاکستان میں ویکسین کب دستیاب ہو گی؟

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ پاکستان وائرس سے بچاؤ کے لیے کون سی ویکسین استعمال کرے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ جلد ہی یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ پاکستان کون سی ویکسین استعمال کرے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے معروضی حالات، معاشی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ویکسین سے متعلق اپنی پالیسی بنائے گا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ دو یا تین ویکسین کی منظوری دی جائے۔ لیکن اس سے متعلق حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔

کرونا کی ویکسین تو بن گئی، دوا کب بنے گی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:56 0:00

ان کا کہنا تھا کہ اِس حوالے سے "ٹائمنگ کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے پاکستان جس ویکسین کو فائنل کرے گا وہ اسے کب تک ملے گی۔"

اُن کے بقول غالب امکان یہی ہے کہ پاکستان میں 2021 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ویکسین دستیاب ہو گی، یہ وقت جنوری سے لے کر مارچ کے درمیان بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ ویکسین طبی عملے اور ضعیف افراد کو دی جائے گی۔

اُن کے بقول 2021 کی دوسری سہ ماہی میں ویکسین آبادی کے بڑے حصے کو دستیاب ہو گی۔

ویکسین چین کی ہو گی یا کسی اور ملک کی؟

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ پاکستان ویکسین بنانے والے تمام ملکوں سے رابطہ کرے گا۔ ان میں چین اور مغربی ممالک بھی ہو سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ چین کی دو ویکسیز کے ٹرائلز جاری ہیں جیسے ہی ان کے حتمی نتائج سامنے آئے تو اس حوالے سے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی۔

ویکسین کے لیے درکار رقم

ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ حکومت نے ابتداً ویکسین کی خریداری کے لیے 15 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں۔

پاکستان میں کرونا ویکسین کب دستیاب ہو گی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:07:31 0:00

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ ویکسین کے لیے اربوں ڈالر مختص کرے۔ لہذٰا ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی ترسیل کے لیے عالمی سطح پر جو فیصلے ہوں گے پاکستان اس سے بھی استفادہ کرے گا۔

فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں گے اگر ویکسین آ گئی تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ویکسین کرونا سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی احتیاطی تدابیر میں سے ایک ہے۔ لہذٰا شہریوں کو اس وبا سے بچاؤ کے لیے دیگر احتیاطی تدابیر بدستور کرنا ہوں گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کہتے ہیں کہ ویکسین آنے کے بعد پہلے مرحلے میں اسے طبی عملے کو لگایا جائے گا جس کے بعد 60 سال سے زائد عمر کے افراد اور پھر دیگر آبادی کے لیے یہ ویکسین دستیاب ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG