رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی زرعی معیشت اور کرونا وائرس


پاکستان اس وقت ایک جانب تو کرونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن کی سی صورت حال سے دو چار ہے اور دوسری جانب یہ حالات اس کی کمزور معیشت کو اور کمزور بنا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان میں اس وقت بھی زراعت کے شعبے میں کام جاری ہے اور گندم کی تیار فصل کی سندھ اور جنوبی پنجاب میں کٹائی کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

پاکستان اس وقت ایک جانب تو کرونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن کی سی صورت حال سے دو چار ہے اور دوسری جانب یہ حالات اس کی کمزور معیشت کو اور کمزور بنا رہے ہیں، کیونکہ کرونا کی وجہ سے کاروبار، کارخانے، دفاتر اور روزمرہ کی زندگی کے بہت سے شعبے بند ہیں۔

تاہم زراعت کے شعبے میں کام جاری ہے اور وزیر اعظم عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ اس شعبے میں کام جاری رہے گا۔

گندم کی تیار فصل کی سندھ اور جنوبی پنجاب وغیرہ میں کٹائی کا کام بھی شروع ہو چکا ہے، اور دوسرے علاقوں میں یہ کام اگر موسم ٹھیک رہا تو 15 اپریل سے شروع ہو گا۔

اگر کھیتوں اور زرعی مشینری پر کام کرنے والے کرونا سے متاثر نہ ہوئے تو گندم کی حد تک پاکستان میں آنے والے دنوں میں لوگوں کو جن میں سے بیشتر کے کاروبار وغیرہ بند ہیں، کسی قلت کا سامنا اس طرح نہیں کرنا پڑے گا جیسا ابھی کچھ دن پہلے گندم اور چینی کے بحران کے دوران کرنا پڑا تھا۔ لیکن اگر موسم نے تعاون نہ کیا اور کرونا نے اس شعبے کے کارکنوں کو متاثر کیا تو مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

فارمرز ایسوسی ایشن کی ربیعہ سلطان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حالات ٹھیک نظر آ رہے ہیں لیکن اگر کرونا کی وبا مزید پھیلتی ہے اور لاک ڈاؤن کی صورت پیدا ہوتی ہے تو پھر کام میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر سب ٹھیک رہا تو توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں کوئی 23 ملین ٹن گندم پیدا ہو گی اور پاکستان کو گندم کی کسی نوعیت کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ اس سال حکومت نے گندم کی قیمت چودہ سو روپے فی من مقرر کی ہے۔

زراعت کے شعبے سے وابستہ اور سابق صحافی اسامہ فاروق نے بتایا کہ اس وقت تو جن علاقوں میں کٹائی ہو رہی ہے وہاں کرونا کے کوئی اثرات نظر نہیں آتے اور ویسے بھی دیہی علاقوں میں اس وبا کا کوئی خاص اثر محسوس نہیں کیا جا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی ایسی ہے جس کا حکومت کے ریکارڈ میں کوئی ذکر نہیں ہے اور ان زمینوں کے مالکان کوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر اس زمین کو بھی سرکاری دائرہ کار میں لے آیا جائے اور گندم کی اسمگلنگ کو روکنے کا بندوبست کر لیا جائے جو ہمارے ایک پڑوسی ملک اسمگل کی جاتی ہے تو پاکستان میں وہ صورت کبھی پیدا نہ ہو جیسی پچھلے دنوں گندم کے بحران کے دوران پیدا ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی گوداموں میں ذخیرہ کی ہوئی گندم موجود تھی اور آج بھی موجود ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG