رسائی کے لنکس

ماسک حکومت کو فروخت کیے جائیں، ترک حکام کی فیکٹریوں کو ہدایت


ترکی کی ایک فیکٹری میں فیس ماسک تیار کیے جا رہے ہیں۔

ترک عہدے داروں نے ماسک تیار کرنے والی فیکٹریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے ماسک حکومت کو فروخت کرنے پر رضامند نہ ہوئے تو ان پر قبضہ کر لیا جائے گا۔

ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئے لو نے پیر کے روز ترکی کے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ کمپنیوں کو اپنے اسٹاک کی ذخیرہ اندوزی بند کر دینی چاہیے اور وزارت صحت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے چاہئیں۔ دوسری صورت میں ان سے کمپنیاں چھین لی جائیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے چہرہ ڈھانپنے والے ان ماسکس کی مناسب قیمت ادا کرے گی۔

سوئے لو نے کہا حکومت نے کچھ ایسی مقامی فیکٹریوں کے گوداموں پر بیک وقت چھاپے مارے ہیں جو احتیاطی ماسک کا ذخیرہ کر رہیں تھیں۔ یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب ترکی میں کرونا وائرس سے ہونے و الی اموات اتوار کے روز 9 سے بڑھ کر 30 تک پہنچ گئیں۔ اس سے پہلے گزشتہ دو ہفتوں میں کرونا وائرس کے 1256 مصدقہ کیسز سامنے آئے تھے۔

سوئے لو نے کہا کہ ترکی میں اس وقت لگ بھگ 10750 لوگ قرنطینہ میں ہیں۔ ملک میں لگ بھگ ایک لاکھ پنسٹھ کاروبار بند کر دیے گئے ہیں اور شہریوں کو سماجی فاصلے رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ وائرس کا پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مکمل کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG