رسائی کے لنکس

غریب اور جنگ زدہ ملکوں میں عالمی وبا سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں: ماہرین


فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے لاتعداد ملک کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کئی ممالک خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولتوں کے فقدان کے ساتھ یہ ملک کرونا وائرس کے ساتھ دیگر مسائل میں بھی الجھے ہوئےہیں۔

کئی ماہ سے ماہرین انتباہ کر رہے ہیں کہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں صحت کا کمزور نظام کرونا وائرس کی وبا کا زور برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر پسماندہ اور جنگ زدہ ملکوں میں یہ وبا اور زیادہ پھیلی تو متاثرہ ملکوں میں علاج معالجے کی سہولتیں کم پڑ جائیں گی۔ ایسے حالات اب دستک دے رہے ہیں اور یہ ممالک اس حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح اس وبا کا مقابلہ کریں گے۔

جنوبی یمن میں ہیلتھ ورکرز اپنا کام اس لیے چھوڑ رہے ہیں کہ انہیں حفاظتی کٹس مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔ بہت سے اسپتال ناکافی میڈیکل سٹاف کی وجہ سے مریضوں کو واپس بھیج رہے ہیں۔

سوڈان کے جنگ زدہ دارفور علاقے کے کیمپوں میں کرونا وائرس سے ملتی جلتی ایک اور پراسرار وبا پھیل رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت میں کیسیز کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی والے ان دونوں ملکوں میں اس قدر غربت ہے کہ یہاں کے حکام کہہ رہے ہیں کہ مکمل ملک گیر لاک ڈاون ممکن نہیں ہے۔

لاطینی امریکہ پر نظر ڈالیں تو برازیل میں کرونا کیسیز کا سیلاب امنڈ آیا ہے۔ امریکہ کے بعد کرونا متاثرین کی تعداد برازیل میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح پیرو، چلی، ایکوڈور اور پاناما میں کیسیز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوبی افریقہ جیسے ترقی پذیر ملک میں مریض اسپتال کے کمروں باہر راہداریوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کسی بھی افریقی ملک سے زیادہ ہے، جب کہ یہاں صحت کا نظام دیگر افریقی ملکوں سے بہتر شمار کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف افریقہ کے وہ ملک ہیں، جو پہلے ہی خانہ جنگی، لڑائیوں اور دیگر مسائل کا شکار ہیں۔ ان حالات میں کرونا وائرس سے لڑنا ان کے بس کی بات نہیں۔

صحت کے عالمی ماہرین کہہ رہے کہ کرونا کو قابو میں کرنے کے لیے لاک ڈاون اور ٹیسٹنگ ضروری ہیں۔ لیکن یہ غریب ملک ان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ "ڈاکٹرز وتھ آوٹ بارڈرز" کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم جن غریب ملکوں میں کام کر رہی ہے، وہاں سب سے بڑا مسئلہ ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی ہے۔ مصر کو چھوڑ کر بقیہ تمام افریقی ملکوں میں ٹیسٹنگ کا نظام ناکافی ہے۔

لاک ڈاون بھی ان ملکوں میں ناممکن ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ کے مقابلے میں یہاں کا متوسط طبقہ بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

بھارت میں جب لاک ڈاون کیا گیا تو بڑے بڑے شہروں سے لاکھوں مزدوروں اور کارکنوں کی اندرون ملک ترک مکانی ایک سنگین انسانی بحران میں بدل گئی۔ یہ کروڑوں لوگ جب اپنے آبائی علاقوں کے لیے روانہ ہوئے تو حکومت انہیں مناسب ٹرانسپورٹ مہیا نہیں کر سکی۔ بہت سے لوگوں نے سینکڑوں میل کا پیدل سفر کیا اور درجنوں افراد راستے میں ہلاک ہو گئے۔

لاطینی امریکہ کے ملکوں میں غربت کی وجہ سے ضروری احتیاطوں پر عمل کرنا کسی طور ممکن نہیں رہا۔ لاکھوں لوگ روزانہ کی بنیاد پر کام کر کے اپنے گنجان آباد گھروں کو واپس آتے ہیں۔ ظاہر ہے ان حالات میں کوئی بھی حکومت بنیادی احتیاطی تدابیر کو لاگو نہیں کر سکتی۔

یمن میں پانچ سال سے خانہ جنگی ہو رہی ہے، اور وہاں انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہوثی باغی شمال میں اس وبا سے متعلق تمام اطلاعات کو دبا رہے ہیں، جب کہ جنوب میں صحت کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔

تیز شہر کے ڈاکٹر عبدالرحمان العزراقی کہتے ہیں کہ یمن میں کرونا وائرس کے مریض گھروں میں رہتے ہوئے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

پوری دنیا میں کرونا وائرس کے شکار ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالم گیر کرونا وبا نے پوری طرح ان غریب ملکوں کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے، مگر آنے والا وقت کوئی امید افزا تصویر نہیں پیش کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG