رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کا خوف: برتھ کنٹرول کے ہزاروں مراکز بند، نتیجہ کیا نکلے گا؟


افریقی ملک زمبابوے کے دیہی علاقے کی اکثر عورتیں ان دنوں ایک ہی سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ برتھ کنٹرول کے دفتر دوبارہ کب کھلیں گے۔ عالمی وبا کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے جہاں اسکول، کاروباری مراکز اور دفاتر بند ہیں، وہاں برتھ کنٹرول کے بہت سے مراکز میں بھی تالے لگ گئے ہیں۔

یہ صرف زمبابوے کا مسئلہ نہیں ہے۔ برِاعظم افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے بہت سے ملکوں کو بھی لوگوں کو اسی پریشانی کا سامنا ہے۔

زمبابوے میں برتھ کنٹرول سے متعلق ایک ادارے کی ڈائریکٹر ابیبے شبرو کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی اس صورت حال میں دیہی علاقوں کے لوگوں کے پاس کچھ اور کرنے کو ہے ہی نہیں۔

افریقہ کے اٹھارہ ملکوں میں قومی پیمانے پر لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ روانڈا قرن صحارا کا پہلا ملک ہے جس نے وائرس کے خطرے کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا جس میں اب مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کی غرض سے ان ملکوں میں دیہی علاقوں تک میں خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز کا جال بچھا ہوا ہے۔ مگر اب عملے اور وہاں آنے والی خواتین کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے کلینک بند کر دیے گئے ہیں۔

امکانی والدین کی مشاورت اور مدد سے متعلق ایک بین الاقوامی گروپ آئی پی پی ایف کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے منسلک پابندیوں کے باعث ہر پانچ میں سے ایک سے زیادہ برتھ کنٹرول کے کلینک بند کر دیے گئے ہیں جن میں 64 ملکوں میں کام کرنے والے پانچ ہزار سے زیادہ موبائل کلینک بھی شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی ایشیا اور افریقہ میں ہیں۔ لیکن، لاطینی امریکہ اور یورپ میں بھی سینکڑوں کلینک بند ہو چکے ہیں۔

آئی پی پی ایف کے کلینک کولمبیا سے لے کر جرمنی اور پاکستان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ گروپ کے ڈائریکٹر جنرل ایلوارو برمیجو نے اپنے ایک بیان میں حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں خاندانی منصوبہ بندی کے کلینک دوبارہ کھولنے کی اجازت دے۔

یورپ میں ایک سو سے زیادہ غیر سرکاری گروپس نے بدھ کے روز حکومتوں پر زور دیا کہ وہ تولیدی سروسز کی فراہمی کو یقینی بنائے جو کرونا وائرس کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں یا بہت معمولی سطح پر کام کر رہی ہیں۔

زمبابوے میں فیملی پلاننگ کی ڈائریکٹر شیبرو نے بتایا کہ پچھلے سال چار لاکھ خواتین نے ان کی سروسز سے فائدہ اٹھایا تھا۔ لیکن، اب ان کا تقریباً 70 فی صد کام بند پڑا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب مرد گھر میں پڑے ہیں اور ان کے پاس اس کے سوا کوئی کام نہیں ہے کہ وہ اپنی بیویوں کی جانب دیکھیں تو اس کا نتیجہ آبادی میں بے ہنگم اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا وینزویلا کو ہے، جہاں ہر سال ہزاروں عورتیں برتھ کنٹرول کی سہولتوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے سرحد پار کولمبیا کا رخ کرتی تھیں۔ لیکن اب کرونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف کلینک بند ہیں بلکہ سرحد کے آر پار آمد و رفت بھی بند ہے۔ شیبرو کا کہنا ہے کہ اس بندش سے نہ صرف غیر مطلوبہ بچے پیدا ہوں گے بلکہ کئی سماجی مسائل بھی جنم لیں گے۔

یوگنڈا میں برتھ کنٹرول کی ڈائریکٹر کی ڈائریکٹر کاررول سکیم پی نے بتایا کہ برتھ کنٹرول کے سامان کی درآمد کئی مہینوں سے رکی ہوئی ہے۔ مرد اور عورتیں گھروں میں بند ہیں۔ حتیٰ کہ نیروبی کے مرکزی اسپتال کا واحد شعبہ جو بند کیا گیا ہے، وہ فیملی پلاننگ کا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والے مہینوں میں ہمیں کس صورت حال کا سامنا ہوگا؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG