رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا: شادی سے قبل خاندانی منصوبہ بندی سے آگاہی لازمی قرار دینے کا فیصلہ


(فائل فوٹو)

پاکستان میں صوبہ خيبر پختونخوا کی حکومت نے نکاح کے موقع پر جوڑے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی لازمی قرار دينے کا فيصلہ کيا ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ اس قانون کی مدد سے صوبے ميں زچّہ بچہ کی صحت اور بچوں کی پيدائش ميں مناسب وقفے سميت آبادی کو کنٹرول کرنے ميں بھی مدد ملے گی۔

حکمران جماعت پاکستان تحريکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن صوبائی اسمبلی عائشہ بانو کے مطابق پاکستان کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے جسے کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ حکومت اس ضمن ميں کسی پر کوئی دباؤ يا پابندی نہیں لگا رہی۔ بلکہ اس بل کے تحت نئے شادی شدہ جوڑوں کو آگاہ کيا جائے گا کہ وہ مستقبل ميں اپنی فيملی پلاننگ کیسے کر سکتے ہيں۔

عائشہ بانو کے مطابق پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک کی آبادی ميں بہت تيزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے سبب بہت سارے مسائل جنم لے رہے ہيں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ خیبر پختونخوا کا معاشرہ زیادہ تر قبائلی ہے جہاں کم عمری میں شادياں کی جاتی ہيں۔ لہٰذا جوڑوں کو بچوں کی پيدائش اور اس کے درميان وقفے کے متعلق آگاہی فراہم کی جائے تو اس سے بچوں اور ماں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

عائشہ بانو کے مطابق بعض اوقات کچھ خاندانوں میں موروثی بيمارياں پائی جاتی ہیں چونکہ ان کی رہنمائی نہیں ہوتی تو ایسے خاندان ميں ابنارمل بچوں ميں اضافہ ہوتا ہے۔ جس سے مستقبل ميں پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی موجودہ آبادی 20 کروڑ سے زائد ہے۔ حکومت کی جانب سے آبادی کنٹرول کرنے کی متعدد بار کوششيں کی جاتی رہی ہیں ليکن قدامت پسند معاشرے میں لوگوں کی اکثریت بہبود آبادی سے متعلق پروگراموں کو مسترد کر دیتے ہیں۔

عائشہ بانو کہتی ہیں کہ ماضی ميں لوگ اس کو مغرب کا ايجنڈا قرار ديتے تھے ليکن اب حالات نے لوگوں ميں شعور بیدار کر ديا ہے اور اب نئی نسل حکومت کے اس اقدام کو خوش آمديد کہے گی۔

خيبر پختونخوا کے ڈائريکٹر جنرل صحت فضل نبی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سپريم کورٹ نے 2018 ميں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق ازخود نوٹس ليا تھا جس کے بعد ملک بھر ميں ٹاسک فورسز بنائی گئی تھیں۔

ان کے بقول ٹاسک فورسز نے مختلف سفارشات پیش کی تھیں جن میں سے ايک نکاح رجسٹريشن سے قبل مياں بيوی کی کاؤنسلنگ کرنا بھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نکاح رجسٹريشن فارم ميں بھی تبديلياں کر رہے ہيں جس ميں ايک کالم ميں يہ تصديق کرانی لازمی ہوگی کہ مياں بيوی کی کاؤنسلنگ ہو چکی ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فضل نبی نے بتايا کہ اس ضمن میں انہوں نے مختلف ممالک کے قوانين بھی پڑھے ہیں اور وہ خود اس وفد کا بھی حصہ تھے جس نے ايران کا دورہ کيا تھا۔ ايران ميں گزشتہ 20 برس سے شادی سے قبل جوڑے کی کاؤنسلنگ کی جاتی ہے جس کے کافی مثبت نتائج سامنے آئے ہيں۔

ياد رہے کہ گزشتہ سال سپريم کورٹ نے بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے ازخود نوٹس کے فيصلے کے موقع پر مذہبی اکابرين، سول سوسائٹی اور حکومت کو ہدایت کی تھی کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے جامع اقدامات کیے جائيں۔ اس وقت کے چيف جسٹس ثاقب نثار نے ملک ميں بڑھتی ہوئی آبادی کو سُلگتے ہوئے آتش گير مادے سے تعبير کيا تھا۔

آبادی سے متعلق ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم 'پاپوليشن کونسل' کی اس سال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنيا کے ان ممالک ميں شامل ہے جہاں نوزائيدہ بچوں کی شرح اموات انتہائی بلند ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ايک ہزار نوزائیدہ بچوں ميں سے 62 بچے ايک سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کا شکار ہو جاتے ہيں۔

اسی طرح پاکستان کا شمار ان ممالک ميں بھی ہوتا ہے جہاں حمل و زچگی کے عمل کے دوران اموات کی شرح بہت زيادہ ہے۔ ہر سال 12 ہزار خواتين بوجہ حمل و زچگی، موت کا شکار ہو جاتی ہيں۔

ڈاکٹر فضل نبی کو امید ہے کہ اس نئے بل کی وجہ سے ماں اور بچے کی صحت بہتر بنانے اور اموات کی شرح میں کمی لانے ميں مدد ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG