رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت کیسے بڑھائی جائے؟


Masks coronavirus

علی عمران

کرونا وائرس سے بچاؤ کی مؤثر ویکسین یا دوا کی عدم موجودگی کے دوران قدرت کے کارخانے میں آخر کوئی تو ایسا نسخہ ہوگا جو اس بیماری کے خلاف انسانی دفاعی نظام کو مضبوط کر سکے؟

اس مرض کے خلاف جاری جنگ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نقطہ کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ گھروں میں محصور بہت سے لوگ ذہنی دباؤ اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اس صورتحال میں لوگوں کا فکرمند ہونا ایک قدرتی امر ہے۔ لیکن، اس کے علاج کے حوالے سے بھی انسانی سوچ اہک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ایسے کہ مثبت سوچ اپنانا افراد کے رویوں میں تبدیلی لاتی ہے اور مثبت رویے ان کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں۔

امریکن سائیکلوجیکل ایسوسی ایشن کے ایک مضمون میں ڈاکٹروں اور ماہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں پر یہ بات واضح کریں کہ سوشل ڈسٹنسنگ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنے آپ کو تنہائی کے گوشے میں محدود کر لے، بلکہ اس کا مطلب ایک مناسب سماجی فاصلہ رکھنا ہے جب تک covid-19 کی وبا تھم جائے۔

ماہرین کے مطابق، قوت مدافعت کا تعلق دو باتوں سے ہے۔ ایک خوراک اور دوسرے انسانی رویہ۔ وٹامن سی سے بھرپور پھل اور خوراک اور زمانہ قدیم کے آزمودہ مصالحہ جات ہمیں جسمانی طور پر کرونا وائرس جیسی بیماری کے خلاف قوت بخشتے ہیں۔ دوسری جانب، ایک تعمیری سوچ اور رویہ ہمیں ذہنی طور پر آفات سے نمٹنے کے لیے تیار کرتا ہے۔

لیکن، سوال یہ ہے کہ ان دگرگوں حالات میں انسانی سوچ کو کیسے مثبت سمت کی طرف مائل کیا جائے؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے، وائس آف امریکہ نے ماہر نفسیات ڈاکٹر مریم رکا سے بات کی۔

پاکستانی نژاد ڈاکٹر مریم کے مطابق، ان غیر معمولی حالات میں بنیادی نقطہ یہ ہے کہ لوگ غیر یقینی کیفیت سے جنم لینے والے خوف کو اپنے آپ پر طاری نہ ہونے دیں، کیونکہ خوف انسانی قوت مدافعت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔

اب جبکہ زندگی ایک نئے موڑ پر آگئی ہے، لوگوں کو ماضی کے طرز حیات کی جگہ اس صورت حال میں زندگی کا ایک نیا توازن تلاش کرنا ہوگا جو اس چیلنج سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو۔

جہاں تک ایک مثبت رویے کا تعلق ہے، ڈاکٹر مریم کہتی ہیں کہ اگر لوگ نئے توازن کو اپنالیں تو ایک زوردار قہقہہ بھی انسانی جسم کو درجنوں وٹامن سی کے برابر توانائی دے گا۔

انھوں نے کہا ہے کہ covid-19 کے اس دور میں صحت مند سوچ اپنا کر ہی حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ بقول ڈاکٹر مریم، ''سب سے پہلے تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہے اور موجودہ حالات آپ کے پیدا کردہ نہیں''۔

دوسرے یہ کہ حالات سے باخبر رہنا چاہیے۔ لیکن، اس بات کو نظرانداز نہ کیا جائے کہ بہت سے لوگ علاج کے ذریعے اس بیماری سے صحتیاب ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جاتیں تو بہت زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔

تیسرے یہ کہ گھروں تک محصور ہونے کے باوجود، لوگوں کو قدرت سے اپنا ناطہ برقرار رکھنا چاہیے۔ بقول ان کے، ''یہ گھر کے سامنے لان میں سجائے گئے پھول، کمرے یا راہداری میں سجا گلدان یا کھڑکی سے نظر آنے والے سبز پودے یا پھول اپنے قدرتی رنگوں سے انسانی ذہن پر اچھے اثرات چھوڑتے ہیں''۔

چوتھے یہ کہ اپنے دن کا کچھ حصہ تخلیقی کاموں میں گزارا جائے، جیسا کہ کچھ تحریر کرنا یا ڈرائنگ کرنا۔ کتاب دوستی بھی اسی میں شامل ہے۔ یہ تمام باتیں انسان کے اندر کامیابی کا احساس اور توانائی پیدا کرتی ہیں۔

پانچویں یہ کہ ان حالات میں لوگوں کو یہ بات سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے قریب ترین لوگوں کے لئے اس مشکل کی اس گھڑی پر قابو پالیں گے۔

بقول ان کے، ''ہمیں پابندیوں کے اس وقت کو ایک پلاننگ سیشن اسٹریٹجی کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، تاکہ آئندہ آنے والے دنوں میں زندگی کو پہلے سے بہتر بنایا جا سکے''۔

ڈاکٹر مریم کے مطابق، ان باتوں اور صحت عامہ کے اصولوں پر عمل کرنا تقریباً سبھی کے لیے ممکن ہے۔ اور ان سے پیدا ہونے والی تعمیری اور مثبت سوچ لوگوں کی قوت مدافعت بڑھانے اور کرونا وائرس جیسے موذی مرض سے مقابلہ کرنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG