رسائی کے لنکس

logo-print

اگلے دو ہفتوں ٘میں زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ ہے، صدر ٹرمپ


صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں کرونا وائرس کی صورت حال پر بریفنگ دے رہے ہیں۔ 5 اپریل 2020

امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا جب کہ بظاہر تھمنے میں نہیں آ رہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگلے چند ہفتے ملک میں زیادہ مشکل ہوں گے۔ اور وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں کا یہ کہنا ہے کہ انھیں وسیع تر میٹرو پولیٹن علاقے میں وائرس کے کیسز میں کچھ استحکام کی توقع ہے۔ اسی دوران کرونا کی وبا کا تدارک کرنے کے لئے فوج کی تعیناتی عمل میں آ چکی ہے۔ جو اس موذی مرض سے نمٹنے میں ہاتھ بٹا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہم ایک ایسے موڑ پر دکھائی دیتے ہیں جہاں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور صورت حال اچھی نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق اگلے دو ہفتے بھاری ہوں گے۔

وزیر دفاع مارک ایسپر نے اے بی سی کے پروگرام ’’ دس ویک ‘‘ میں بتایا کہ ایک ہزار سے زیادہ فوجی ڈاکٹروں کو پورے ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

ان میں سے کئی سو ڈاکٹر صرف نیویارک شہر کے اسپتالوں میں متعین کیے جا رہے ہیں، جو امریکہ میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔ نیویارک میں جیکب جیوٹ سینٹر کو ڈھائی ہزار بستروں کے اسپتال میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ جو امریکہ کا سب سے بڑا اسپتال ہو گا اور اس کا نظام امریکی فوج کے ہاتھ میں ہو گا۔

امریکی بحریہ کا ایک جہاز نیویارک میں اور دوسرا لاس اینجلس میں طبی ساز و سامان سے لیس پہلے ہی لنگر انداز ہے جو علاج معالجے میں مدد دے رہا ہے۔

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ حال ہی میں ایک ایٹمی طیارہ بردار جہاز کے کپتان کو برطرف کئے جانے پر امریکی بحریہ کو ایک تنازع کا سامنا ہے۔

جہاز کے کپتان نے بحریہ کے عہدیداروں کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس کے عملے کے بیشتر افراد کو جہاز سے نکالنے میں مدد کی درخواست کی گئی تھی تاکہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

بحریہ کے عہدیداروں کا موقف ہے کہ کپتان کی پہلے کی درخواستوں کے جواب میں اقدامات کئے جا چکے تھے اور خط تحریر کرنے کی ضرورت نہیں تھی جس سے بقول ان کے فائدے سے زیادہ نقصان ہوا۔

صدر ٹرمپ نے کپتان کو برطرف کئے جانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے خط لکھ کر بہت غلطی کی۔

اس تمام واقعہ نے ایک سیاسی شکل اختیار کر لی اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر اظہار خیال کی بوچھاڑ ہو گئی۔ سابق نائب صدر اور صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی کے لئے امیدوار جو بائیڈن نے کہا کہ کپتان نے وہی کہا جو اسے کہنا چاہئے تھا، جس پر اسے نکال دیا گیا۔ اس کی وجہ سے بحریہ کے ارکان کو خطرہ تھا اور برطرف کئے جانے کی بجائے اسے سراہنا چاہئے تھا۔

وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار الیزہ بیتھ لی نے اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ ایسٹر کا تہوار بھی آنے والا ہے جو اس سال بدقسمتی سے کرونا کی وبا کے خوف کی فضا ہی میں منایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG