رسائی کے لنکس

کرونا وائرس: 'ناکافی' اقدامات پر عدالتی نوٹس، حکومت نے جواب جمع کرا دیا


(فائل فوٹو)

وفاقی حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے اقدامات پر مبنی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرا دی ہے۔ چار صفحات پر مشتمل رپورٹ وزارتِ صحت کی معاونت سے تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے ٹھوس اقدامات جب کہ متفقہ فیصلے کیے گئے ہیں۔

حکومت نے رپورٹ میں بتایا کہ ملک بھر کے 154 اضلاع میں مشتبہ مریضوں کے لیے قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

تفتان،چمن اور طور خم بارڈر کراسنگز پر مزید سختی کردی گئی ہے اور تمام بین الاقوامی ایئر پورٹس پر خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت کے ناکافی انتظامات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں حکومت نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قرنطینہ کے لیے 300 بستر اور مصدقہ مریضوں کے لیے اسپتالوں میں 154 بیڈز مختص کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں ٹیسٹ کے لیے دی جانے والی ٹریننگ، لیبارٹریوں کے قیام سے متعلق تفصیلات بھی سپریم کورٹ کو فراہم کردی گئی ہیں۔

چیف جسٹس نے اس ضمن میں سیکریٹری صحت، سیکریٹری داخلہ اور چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز کے علاوہ اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کو بھی نوٹسز جاری کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کے چیف کمشنر کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، ابھی تک صرف وفاقی حکومت نے ہی جواب جمع کرایا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ 13 اپریل کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 'ناکافی' اقدامات پر ازخود نوٹس کی سماعت کرے گا۔

چند روز معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حکام نے چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو کرونا وائرس سے متعلق کیے کئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔

کرونا وائرس کی وجہ سے اسلام آباد اور سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے انڈر ٹرائل ملزمان کی رہائی کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ جس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے رہا کیے گئے قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز بند کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں صوبائی حکومتوں کی طرف سے فنڈز کے مطالبے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG