رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا وائرس کے 1000 کیسز، اب تک کیا کیا ہوا؟


پاکستان کے مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند ہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ ملک بھر میں آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

پاکستان بھر میں جزوی لاک ڈاؤن ہے اور حکام لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو رپورٹ ہوا تھا۔ جب کراچی کے ایک شخص میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس کے بعد وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک اور کیس سامنے آنے کا اعلان کیا تھا۔

اُنہوں نے بتایا تھا کہ دونوں مریضوں نے 14 روز کے دوران ایران کا سفر کیا تھا۔

پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ ایران سے آنے والے زائرین کو قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ان زائرین کی اسکریننگ کے لیے سرحدی علاقے تفتان میں قرنطینہ مرکز قائم کیا۔ جہاں زائرین کو رکھا گیا۔

البتہ یہاں ناقص انتظامات کی شکایات بھی عام رہیں۔ خاص طور پر سندھ کے وزیر اعلٰی مراد علی شاہ نے بھی تفتان قرنطینہ مرکز میں انتظامات پر تنقید کی۔

مشتبہ مریضوں کو رکھنے کے لیے تفتان میں قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا۔
مشتبہ مریضوں کو رکھنے کے لیے تفتان میں قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا۔

سندھ حکومت نے تفتان سے آنے والے زائرین کو قرنطینہ میں رکھنے کے لیے سکھر کی نئی تعمیر شدہ لیبر کالونی کو قرنطینہ مرکز کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جہاں سیکڑوں زائرین کو رکھا گیا ہے۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کے معاملے پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کے فقدان کی بھی شکایات عام رہیں۔

اس دوران حکومت کی جانب سے مزید کیسز کے حوالے سے خاموشی رہی، لیکن تفتان سے زائرین کی آمد کے بعد کیسز بھی تیزی سے بڑھنے لگے۔

پہلا کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے سکھر میں قرنطینہ مرکز قائم کر دیا تھا۔

چین میں موجود پاکستانی طلبہ کو واپس نہ بلانے اور ایران سے زائرین کو واپس لانے کے معاملے پر بھی پاکستان میں تنازع رہا۔ اس دوران سکھر اور پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں قائم قرنطینہ مراکز میں کیسز مسلسل بڑھتے رہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت سندھ نے 20 مارچ کو عوام سے اپیل کی کہ وہ تین دن تک گھروں سے نہ نکلیں۔ لیکن موثر عمل درآمد نہ ہونے پر سندھ حکومت نے 23 مارچ سے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔

لاک ڈاؤن کے دوران میڈیکل اسٹورز، کریانے اور گوشت کی دُکانیں کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا اس دوران مسلسل اصرار رہا کہ وہ لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں ہیں۔ البتہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں فوج طلب کر لی گئی۔

حکومتِ پاکستان نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 21 مارچ کو بین الاقوامی فلائٹ آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا۔ حکومت نے اندرون ملک فضائی آپریشن بھی بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

پاکستان ریلوے نے 24 مارچ سے ملک گیر ٹرین سروس بھی معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ ملک بھر کے تعلیمی ادارے بھی مئی کے اختتام تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے وزیر اعلٰی نے بھی 24 مارچ سے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ اس دوران بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے بھی جزوی لاک ڈاؤن کر دیا۔

البتہ پاکستان کے مختلف شہروں سے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد نہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

اقتصادی پیکج کا اعلان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 24 مارچ کو کرونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اربوں روپوں پر مشتمل اقتصادی پیکج کا اعلان کیا۔

اقتصادی پیکج میں مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روبے کے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی 15 روپے فی لیٹر تک کمی کا اعلان کیا۔

بعدازاں پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں بھی ڈیڑھ فیصد کمی کر دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG