رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: کانگریس امدادی پیکج منظور کرنے میں ایک بار پھر ناکام


امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوشن

پیر کی رات امریکی سینیٹ مہلک کرونا وائرس سے بری طرح متاثر بیشتر امریکیوں اور بہت سے کاروباری افراد کے لیے دو ٹریلین ڈالر کا ایک بھاری امدادی پیکیج منظور کرنے میں دوسر ی بار ناکام رہی۔

100 رکنی چیمبر میں اس بل پر حتمی بحث اور کسی نتیجہ خیز ووٹنگ تک پہنچانے کے لیے درکار 60 ووٹ حاصل کرنے کے قریب نہیں پہنچی۔

ڈیموکریٹس نے کہا کہ اس پیکیج میں کارکنوں اور ہسپتالوں اور صحت کی دیکھ بھال کے ماہرین کے مقابلے میں کاروباری افراد کے لیے بہت زیادہ فائدہ شامل ہے۔

ری پبلکنز نے ڈیموکریٹس پر امداد کو ایک ایسے وقت میں بلاک کرنے کا الزام عائد کیا جب امریکیوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ وائرس کے اثرات ان کی ملازمتوں اور مالی حالات کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ اسٹیون منوشن نے، جو قانون سازوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کلیدی مذاکرات کار ہیں، ڈیموکریٹس کے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ امداد سے انفرادی کارکنوں کے نقصان کی قیمت پر کاروباری افراد کی معاونت ہو گی۔ فاکس بزنس نیٹ ورک پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیوں کی بہبود کے لیے نہیں،بلکہ تمام امریکی کارکنوں کی مدد کیلئے ہے۔

اس امدادی پیکیج کا مقصد 90 فیصد امریکیوں اور کاروباری افراد کے ایک بڑے طبقے کو کرونا وائرس کے فوری اور بڑھتے ہوئے اقتصادی اثرات سے بچانے میں مدد کے لیے براہ راست ادائیگیاں کر کے امریکی معیشت کو بڑھاوا دینا تھا۔

اس امدادی پیکیج کے تحت چار افراد پر مشتمل بیشتر امریکی گھرانوں کو مالی معاونت کے لیے تین ہزار ڈالر دیے جانے کے لیے کہا گیا ہے، جب کہ کاروباری افراد، شہروں، ریاستوں کے لیے 500 ارب ڈالر کے قرضے کا ایک پروگرام تشکیل دیا جائے گا اور چھوٹے کاروباری افراد کو ایک ایسے وقت میں تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد کے لئے 350 ارب ڈالر دئے جاتے جب ان کی پیداوار اور خدمات کی طلب میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

ڈیموکریٹس نے اپنے اعتراضات کو کاروباری افراد کے لیے500 ارب ڈالر کے قرض کے پروگرام پر مرکوز کیا، جسے کچھ نقاد ایک سیاسی رشوت کا فنڈ قرار دے رہے ہیں، کیوں کہ محکمہ خزانہ کو یہ صوابدیدی اختیار حاصل ہو گا کہ یہ رقم کون حاصل کرے گا جب کہ اس رقم کے خرچ کے طریقےکے بارے میں بہت کم جواب دہی ہو گی۔

ٹرمپ ڈیموکریٹس کی دلیل سے اتفاق کرتے دکھائی دیے۔ اتوار کے روز انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ کسی کمپنی کو بیل آؤٹ دیا جائے اور پھر کوئی شخص جائے اور اس رقم کو کمپنی میں باقی ماندہ اسٹاک خریدنے میں اور اسٹاک کی قیمت بڑھانے میں لگائے اور پھر ایک بونس حاصل کر لے۔ اگرچہ میں ایک ری پبلکن ہوں لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ اس رقم کو اپنے کارکنوں کے لیے استعمال کریں۔

امریکہ کی کم از کم تیرہ ریاستوں کے گورنروں نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلیے لاکھوں لوگوں کو گھر میں رہنےکا حکم دیا ہے۔ قومی پیمانے کے کسی شٹ ڈاؤن کا ابھی کوئی پروگرام سامنے نہیں آیا۔

امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 41 ہزار سے زیادہ لوگوں میں اس کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 500 لوگ اس کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ دونوں اعداد و شمار حالیہ دنوں میں تیزی سے بڑھے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG