رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس سے آگاہی کے لیے آئمہ کا تعاون حاصل کرنے کا مشورہ


ڈاکٹر قبلہ ایاز، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، فائل فوٹو

پاکستان میں اسلامی قوانین سے متعلق آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مساجد کی تالا بندی یا بندش کا تاثر نہیں جانا چاہئے اور انتظامیہ عوام کو آگاہی فراہم کرنے کے سلسلے میں مساجد کے آئمہ سے تعاون حاصل کرے نہ کہ ان کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا جائے۔​

کرونا وائرس کے باعث پیدا شدہ صورت حال اور مذہبی مسائل سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ کرونا وائرس کے سبب وفات پانے والے افراد کے لئے لفظ ہلاک استعمال نہ کیا جائے بلکہ انہیں شہید یا جاں بحق لکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث وفات پانے والوں کے غسل اور تدفین کا انتظام کیا جائے اور احتیاتی تدابیر اور سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے قریبی رشتہ داروں کو جنازہ و تدفین میں شرکت کی اجازت دی جائے اور تدفین کرتے ہوئے تکریم و احترامِ انسانیت کا مکمل خیال رکھا جائے۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بتایا کہ کونسل نے اجتماعی عبادات کے بارے میں حکومت کے اقدامات کی تائید کی ہے اور انسانی جان کی حرمت کے پیش نظر عوام کو نمازیں گھروں میں پڑھنے کی تاکید کی ہے تاکہ میل جول میں فاصلوں کو یقینی بنایا جائے۔

تاہم کونسل موجودہ حالات میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی واضح فیصلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ خیال رہے کہ نماز جمعہ کے حوالے سے گائیڈ لائنز فراہم کرنا کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھا۔

کونسل نے واضح کیا کہ کرونا وائرس کو کسی مسلک یا فرقے کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں ہے اور یہ کہ عمرہ کے مسافر ہوں، مقدس مقامات کے زائرین ہوں یا تبلیغی جماعت کے کارکن، ان کا اس بیماری کے پھیلاؤ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

قبلہ ایاز نے کہا کہ کرونا وائرس کے باعث ملک بھر کی معاشی سرگرمیاں معطل ہیں۔ ایسے میں صاحبِ استطاعت افراد سامنے آئیں اور معاشی کفالت کے لیے مذہبی و علاقائی امتیازات سے ماورا اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ عمرہ و زیارات یا دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مختص رقم کو بھی کرونا وائرس سے معاشی دباؤ کے شکار افراد کی مدد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس موقع پر اقلیتی برادری کو بطور خاص یاد رکھا جائے۔

قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کو ختم کرنے کے لیے ماہرین صحت، طبیب اور بین الاقوامی ادارے تحقیق اور ادویات کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں، کونسل اس کی تائید کرتی ہے اور اسے انسانیت کی بڑی خدمت قرار دیتی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل نے باجماعت نماز کی ادائیگی معطل کرنے اور نماز جمعہ کے اجتماعات منعقد نہ کرنے پر مختلف مکاتب فکر کے علما کرام سے مشاورت کی تھی۔ تاہم جمعہ اور نماز کی ادائیگی کو مکمل طور پر معطل کرنے پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG