رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: علما اور حکومت کا معاہدہ بے اثر، وائرس پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے


فائل فوٹو

پاکستان میں کرونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اس مرض سے اموات کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ کچھ لوگ متاثرین کی تعداد بڑھنے کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ اب مرض کی بہتر ٹیسٹنگ ہو رہی ہے اور وہ مریض بھی سامنے آ رہے ہیں جو اب تک ظاہر نہیں ہوئے تھے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا سبب رمضان کی خریداری کی گہما گہمی ہے جس کے دوران سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ دوسرا گلیوں محلوں کی مساجد میں ہونے والے رمضان کے اجتماعات ہیں اور اس بارے میں حکومت اور علما کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، اس پر درست طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے صدر مملکت نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے، جن کا یہ معاہدہ کروانے میں اہم کردار تھا۔ دوسری جانب علما کا مؤقف ہے کہ معاہدے پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

ممتاز تجزیہ کار سلمان عابد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو معاہدہ ہوا تھا، اس پر بظاہر پوری طرح عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ رمضان کی خریداری کے لیے نکلتے ہیں، وہ سماجی فاصلے کا بالکل خیال نہیں رکھ رہے اور یہ بہت خطرناک صورت حال ہے جس سے حالات بگڑ سکتے ہیں۔ اس لیے لوگوں کو خود بھی ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہو گا۔

سلمان عابد نے کہا کہ اس مرحلے پر حکومت کے پاس، جو خود بھی لاک ڈاؤن پر اس بنا پر زیادہ یقین نہیں رکھتی کہ اس سے معیشت کو بھاری نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے بعد صرف ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے کہ وہ علما سے دوبارہ مکالمہ کرے اور معاہدے پر عمل درآمد کروائے۔

ایک اور تجزیہ کار ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا تھا کہ یہ رمضان کے اجتماعات اور خریداری کی بھیڑ بھاڑ حالات کو قابو سے باہر کر دے گی جو کسی کے لئے بھی فائدہ مند نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں سعودی عرب اور مصر وغیرہ کے واضح فتووں کو بھی نہیں مانا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال سے نکلنے کے لئے حکومت کو سختی سے لاک ڈاؤن نافذ کرنا ہو گا۔

جب اس سلسلے میں ممتاز عالم دین اور وفاق المدارس کے سربراہ مولانا حنیف جالندھری سے سوال کیا گیا کہ سعودی اور مصری علما کے فتووں سے استفادہ کیوں نہیں کیا جا رہا تو انہوں نے کہا کہ ہر ملک کے اپنے اپنے حالات ہوتے ہیں جن کے مطابق معاملات چلائے جاتے ہیں۔ دوسرا خود سعودی عرب میں بقول ان کے حرم میں نماز وغیرہ ہو رہی ہے۔

انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ علما اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، اور کہا کہ مساجد سے تو کہیں زیادہ لوگ غلہ منڈی، سبزی منڈی اور بازاروں وغیرہ میں ہوتے ہیں۔ وہاں کہیں زیادہ خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ وہاں تدارک کی ضرورت ہے۔

مولانا حنیف جالندھری نے کہا کہ اگر کسی مسجد میں خلاف ورزی ہو رہی ہے تو حکومت اس کی نشاندہی کرے۔ ہم اسے درست کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG