رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی بحریہ کی خلیج فارس میں ایرانی جہازوں کے لیے وارننگ


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ دھکمی دی تھی کہ ایران کے ایسے کسی بھی جہاز کو تباہ کر دیا جائے گا جو امریکی بحریہ کو سمندر میں ہراساں کریں گے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی بحریہ نے خلیجِ فارس میں امریکی جنگی جہازوں کے نزدیک آنے والے کسی بھی جہاز کو خطرہ قرار دیتے ہوئے ایسے جہازوں کے خلاف دفاعی حکمتِ عملی کے تحت کارروائی کرنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔

امریکی بحریہ نے یہ الرٹ ایران کی فوج پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کی دھمکی کے بعد جاری کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اگر خلیجِ فارس میں ایران کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوئے تو ایران خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی خبردار کرچکے ہیں کہ ایران کے ایسے کسی بھی جہاز کو تباہ کر دیا جائے گا جو امریکی بحریہ کو ہراساں کرے گا۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد منگل کو امریکی بحریہ کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں خلیجِ فارس میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی کشتی کو 100 میٹر سے زیادہ اپنے نزدیک نہ آنے دیں۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی جہازوں کے 100 میٹر کے قریب آنے والے اسلحے سے لیس جہاز اور کشتیاں امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکی بحریہ کی جانب سے جنگی جہاز کے کپتانوں کو جاری کردہ نیا نوٹس بحریہ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہے۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

بحرین میں امریکی نیوی کی سینٹرل کمان نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے جاری نوٹس بحری جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کسی بھی طرح کے ابہام اور غلط اندازے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایران کی 11 کشتیاں خلیجِ فارس میں موجود امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈز کے جہازوں کے بالکل قریب آ گئی تھیں۔ ایک موقع پر یہ کشتیاں ایک امریکی جہاز سے صرف نو میٹر کے فاصلے پر رہ گئی تھیں۔

امریکی فوج نے بحری بیڑے کے قریب ایران کی کشتیوں کے آنے کو خطرناک اور اس عمل کو اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں شدت آ گئی ہے اور دونوں جانب سے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

رواں برس جنوری کے پہلے ہفتے میں امریکہ نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک ڈرون حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا تھا جس کے جواب میں ایران نے امریکی بیس پر ایک درجن سے زائد میزائل داغے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG