رسائی کے لنکس

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے صدر ٹرمپ کی تنقید بلاجواز قرار دے دی


صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے کرونا وائرس سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی جانب سے تنقید کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس گیبریاسس نے اپنے ادارے کے دفاع میں کہا ہے کہ عالمی وبا کے باعث پیدا ہونے والے بحران کو سیاسی بنانے کے بجائے اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے۔

بدھ کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مصروفِ عمل ہے اس لیے چین اور امریکہ کو مخلصانہ قیادت کے طور پر پیش آنا چاہیے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے ڈبلیو ایچ او پر مسلسل یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کیں اور اس کا جھکاؤ چین کی جانب ہے۔

صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق ڈبلیو ایچ او نے امریکہ کو درست مشورے نہیں دیے اور اس کی توجہ چین کی طرف زیادہ ہے، اس لیے وہ عالمی ادارے کی امداد روک لیں گے۔

تاہم بدھ کو ٹیڈروس گیریاسس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق تمام ملکوں کو تازہ ترین اعداد و شمار، درست معلومات اور شواہد کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے کرونا وائرس سے متعلق ڈبلیو ایچ او کو پہلی مرتبہ 31 دسمبر کو آگاہ کیا تھا۔ ان کے بقول، چین نے بتایا تھا کہ نامعلوم وجہ سے نمونیا جیسی بیماری پھیل رہی ہے اور جمعرات کو ابتدائی معلومات سے متعلق آگاہ کیے جانے کو 100 روز مکمل ہو جائیں گے۔

ٹیڈروس نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو بھی مسترد کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کی تمام تر توجہ چین کی جانب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام ملکوں کے قریب ہیں اور تمام اقوام ڈبلیو ایچ او کے لیے یکساں ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بعد وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بھی کہا ہے کہ وہ ڈبلیو ایچ او کے لیے امداد پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی شہریوں کے ٹیکس کی رقم عالمی ادارہ استعمال کر رہا تھا جسے اب اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ کے مطابق امریکہ عالمی تنظیم کی امداد کرنے والا ایک اہم ڈونر ہے جو عالمی ادارے کے بجٹ میں تقریباً 15 فی صد حصہ ڈالتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے 14 جنوری کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ کرونا وائرس ایک انسان سے دوسرے میں منتقل نہیں ہوتا۔ تاہم اس کے باوجود انہوں نے چین سے آنے والی پروازوں کا داخلہ روکا تھا۔

اس سے قبل ٹیڈروس گیبریاسس کے سینئر مشیر ڈاکٹر بروس ایلورڈ نے ڈبلیو ایچ او کے دفاع میں کہا تھا کہ ان کے ادارے کا چین کے حکام کے ساتھ رابطہ اس لیے ضروری ہے تاکہ اس وبا کو سمجھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق ابتدائی طور پر تمام معلومات جاننا مشکل تھا۔ ان کی قیادت میں ماہرین کا ایک وفد فروری میں چین گیا تھا جہاں بیجنگ کے حکام سے بات چیت کے بعد اس وبا کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG