رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:58 6.5.2020

کرونا وائرس کی وبا اور مجازی اجتماعات

کہتے ہیں کہ انسان سماجی حیوان ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر زیادہ عرصہ نہیں رہ سکتا۔ لیکن کوویڈ نائنٹین سے بچاؤ کے لیے ایک دوسرے سے فاصلے پر رہنا ضروری قرار پایا ہے۔ اس صورتحال کا اب یہ حل نکالا گیا ہے کہ لوگ ورچول گیدرنگ یا مجازی اجتماعات منعقد کررہے ہیں۔

ایسے اجتماعات نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی، امدادی اور مذہبی امور کے لئے بھی منعقد کئے جارہے ہیں۔

رمضان میں ہر سال ان دنوں افطار پارٹیوں کی بہار ہوتی ہے۔ لیکن کرونا وائرس کی وبا میں ان کا انعقاد کیسے ہو؟ لوگوں نے اس کا بھی حل نکال لیا۔ نیوجرسی کے معروف سماجی رہنما سیم ابرار خان نے ورچول افطار پارٹی کا اہتمام کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لوگ جمع ہوں گے، تقاریر ہوں گی اور چندہ جمع کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے

04:03 6.5.2020

کرونا وائرس کی وبا اور بے یقینی کی فضا

کرونا وائرس کی وبا نے دنیا کو اس مرحلے پر لاکھڑا کیا ہے کہ جہاں کسی کو اندازہ نہیں ہے کہ کب کیا ہونا ہے، کس سمت جانا ہے، منزل کونسی ہے اور قیام کہاں کرنا ہے۔

ایک جانب بندش جاری رہنے کی صورت میں معاشی بدحالی، بھوک اور بیروزگاری کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے۔ پھر اتنے طویل عرصے تک معاشرتی طور پر کٹ کر رہنا انسان کی بنیادی فطرت کے خلاف ہے جس سے وہ اکتا جاتا ہے اور آخر کار سرکشی پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب اس خطرے کے بادل سر پر منڈلا رہے ہیں کہ بندشیں ختم کرنے کی صورت میں یہ وبا ایک بار پھر زور پکڑ سکتی ہے۔ اور ویسے بھی طبی ماہرین اور سائنسدان اس وبا کی ایک اور لہر کی پیشگوئی ایسے میں کر رہے ہیں، جبکہ اس کی کوئی موثر دوا یا ویکسین کی ایجاد اگر برسوں نہیں تو خود ماہرین کے بقول مہینوں دور ضرور ہے۔

مزید پڑھیے

04:06 6.5.2020

کرونا سے لڑنے کے لیے ترکی میں عطر کا استعمال

پوری دنیا کی طرح، ترکی میں بھی کرونا وائرس حملہ آور ہے۔ تاہم، ترکوں نے اس سے مقابلے کیلئے اپنے روایتی رسم و رواج کا سہارا لیتے ہوئے، کولون یعنی خوشبو کا استعمال بڑھا دیا ہے۔

ترکی میں عام خیال یہ ہے کہ چونکہ کولون میں الکحل زیادہ مقدار میں ہوتا ہے اس لئے ہاتھوں پر موجود کرونا وائرس کو مارنے کیلئے عطر بہت سازگار ہے۔ آجکل بڑے بڑے خوشبویات بنانے والوں سے لیکر مقامی عطاروں اور کیمیا دانوں تک، سب عطر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔

استنبول کے سب سے بزرگ عطار، ضیا میلی شجر، اس وقت تقریباً نوے برس کے ہیں۔ اپنے پیشے کی وجہ سے انہیں ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن سے استثنا حاصل ہے۔

ضیا ہر روز مقامی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنی دوا سازی کی دکان کھولتے ہیں۔ وہ خاندانی عطار ہیں اور یہ دکان گزشتہ ایک صدی سے اوپر ان کے خاندان کی ملکیت ہے۔

ان کی دکان کی دیواروں پر ان کے خاندان کی دوا سازی اور عطاری سے متعلق پیشہ ورانہ اکتساب کی سندیں عربی عبارات میں لٹکی ہوئی ہیں جو کہ ترک جمہوریہ کے وجود میں آنے سے پہلے کی ہیں۔

مزید پڑھیے

04:09 6.5.2020

ہالی ووڈ کی رونقیں آخر کب بحال ہوں گی

ہالی ووڈ میں وبا کے موضوع پر کئی فلمیں بنائی گئی ہیں۔ لیکن ایسا شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ہر سال اربوں ڈالر کا کاروبار کرنے والی صنعت سے وابستہ اداروں اور لوگوں کو حقیقی زندگی میں کرونا وائرس کی صورت میں وبا کے اتنے بڑے پیمانے پرے اثرات کا سامنا ہے۔

حالیہ دنوں میں جبکہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگ گھروں پر محصور رہے ایک فلم کوارنٹین یعنی قرنطینہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں میں شامل رہی۔ لیکن، امریکہ کے سینما گھروں میں کرونا وائرس کے بعد پہلے جیسی رونقیں کب اور کیسے بحال ہوں گی۔ یہ سوال ہالی ووڈ صنعت سے وابستہ کاروباری اداروں اور فلم بین عوام دونوں کے لئے اہم ہے۔

موجودہ بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ فلم ساز اداروں سٹوڈیوز اور ڈسٹری بیوٹرز کو نئے چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جن میں انٹرنیٹ پر سٹریمنگ سروسز کے ذریعے ڈیجیٹل سکرینوں پر فلمیں دیکھنے کا رجحان بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG