- By یاسمین جمیل
بلوچستان میں ورلڈ فوڈ کا کوویڈ 19 امدادی منصوبہ
اقوام متحدہ کا ادارہ، ورلڈ فوڈ پروگرام، بلوچستان میں لاک ڈاون کے دوران بے روز گار ہو جانے والے 10450 خاندانوں کو کیش فار ورک پراجیکٹ کے تحت 26 کروڑ روپے تقسیم کرے گا۔
اس پراجیکٹ کے تحت بے روز گار ہونے والے لوگوں کو کام فراہم کیا جا رہا ہے اور معاوضے کے طور پر انہیں ہر ماہ فی خاندان ساڑھے آٹھ ہزار روپے ادا کئے جا رہے ہیں اور تین ماہ میں انہیں کل 25500 روپے نقد کی صورت میں ادا کئے جائیں گے۔
کیش فار ورک کے اس پراجیکٹ پر بلوچستان کے دو غیر سرکاری ادارے ترقی فاونڈیشن اور آزت فاونڈیشن عمل درآمد کر رہا ہے۔
واِئس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں ترقی فاونڈیشن کے سی ای او امجد رشید نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے تحت بے روزگار ہونے والے لوگوں کو انہی شعبوں میں کام کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں جن میں وہ پہلے سے کام کر رہے تھے۔ جن میں کھیتوں کو لیول کرنا، نالوں کی صفائی، کنووں کی صفائی، پانی کی سپلاِئی کے کاریز سسٹم کی صفائی اور واٹر چینلز کی صفائی شامل ہے۔
- By مدثرہ منظر
کرونا کی وبا میں بچے شدید بیمار ہو رہے ہیں
کرونا کی وبا کے دوران ابتدا میں یہ کہا جا رہا تھا کہ بچے اس وائرس سے محفوظ ہیں۔ زیادہ خطرہ معمر لوگوں کو ہے اور ان میں بھی پچاس سے ستر برس کے لوگوں کو۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ اس وبا کا زور ابھی ٹوٹا نہیں تھا کہ اچانک بچے بہت بیمار ہو کر ہسپتال پہنچنا شروع ہو گئے۔
پہلے یہ اطلاعات یورپ سے آئیں کہ سکول جانے کی عمر کے بچے ایک خاص طرح کی بیماری کے ساتھ اسپتال لائے جا رہے ہیں جن میں بہت تیز بخار، جسم پر ریش، پیٹ کی تکلیف اور قے آنا وغیرہ شامل ہے۔
وہاں اس بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے کہ آیا بچے کووڈ 19 کا شکار ہو رہے ہیں؟ اب ان ہی علامات کے ساتھ بچے نیویارک کے اسپتالوں میں بھی لائے جا رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے کے دوران 85 بچے بیمار ہو کر اسپتال پہنچے اور ان میں سے تین جانبر نہ ہو سکے۔ طبی ماہرین نے فوراً اس بات کی تحقیق شروع کر دی ہے کہ آیا ان بچوں کی یہ حالت کرونا وائرس کی وجہ سے ہے۔
وبا سے اموات میں کمی، 11 مقامات پر وائرس کا خاتمہ
کرونا وائرس سے اموات میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جب کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ 11 ملکوں اور خود مختار خطوں میں کرونا وائرس کے تمام کیسز نمٹ گئے ہیں، یعنی یا تو مریض صحت یاب ہو گئے ہیں یا ان کا انتقال ہو گیا ہے اور کوئی نیا کیس موجود نہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق پیر کو دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 42 لاکھ اور اموات کی تعداد 2 لاکھ 86 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔
24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 263، برطانیہ میں 210، اٹلی میں 179، اسپین میں 123، کینیڈا میں 122 اور میکسیکو میں 112 مریض چل بسے۔ روس، برازیل، بھارت، ترکی اور بیلجیم میں 50 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
کرونا وائرس: امریکی معیشت کب تک تباہ حال رہے گی؟
کرونا وائرس کی پراسرار وبا جب کہ بہت بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع اور معیشت کی بربادی کا بدستور سبب بن رہی ہے، امریکہ میں ماہرین اس بات پر بحث و تمحیص کر رہے ہیں کہ امریکہ کی معیشت آخر کب تک تباہ حالی کا شکار رہے گی؟ اہم سوال یہ ہے کہ کیا معیشت فوری طور پر بحالی کی طرف آ جائے گی یا یہ عمل بتدریج ہی ممکن ہو سکے گا۔
اسی دوران محکمہ محنت کے اعداد و شمار سے متعلق امریکی بیورو کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 14 اعشاریہ 7 فیصد ہو گئی ہے جو 1948 کے بعد سے امریکہ میں بیروزگاری کی سب سے بلند ترین سطح ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ جب کہ اپریل میں بیروزگاری کی شرح خراب تھی، مئی کے مہینے میں بھی کوئی بہتر توقعات نہیں ہیں۔ دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کے ماہرین پرامید ہیں کہ معیشت تیزی کے ساتھ بحالی کی جانب آ جائے گی۔ تاہم دوسروں کو اتنی زیادہ خوش امیدی نہیں ہے۔
وائس آف امریکہ کی ایلیزہ بیتھ لی نے اپنی رپورٹ میں وہائٹ ہاؤس میں قومی اقتصادی کونسل کے ڈائریکٹر لیری کوبلو کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیروزگاری کی تباہ کن صورت حال کے باوجود انھیں امید کی کرن نظرآ تی ہے، اس لئے کہ، بقول ان کے، بہت سے بیروزگار لوگ وہ ہیں جنھیں محض عارضی طور پر ان کے گھروں کو بھیج دیا گیا ہے، تاہم انھیں اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ صورت حال مستقبل قریب میں بہتر ہونے نہیں جا رہی۔