رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کا کووڈ۔19 امدادی منصوبہ


اقوام متحدہ کا ادارہ ورلڈ فوڈ پروگرام بلوچستان میں لاک ڈاؤن کے دوران بے روز گار ہو جانے والے 10450 خاندانوں کو کیش فار ورک پراجیکٹ کے تحت 26 کروڑ روپے تقسیم کرے گا۔

اس پراجیکٹ کے تحت بے روز گار ہونے والے لوگوں کو کام فراہم کیا جا رہا ہے اور معاوضے کے طور پر انہیں ہر ماہ فی خاندان ساڑھے آٹھ ہزار روپے ادا کیے جا رہے ہیں اور تین ماہ میں انہیں کل 25500 روپے نقد کی صورت میں ادا کیے جائیں گے۔

کیش فار ورک کے اس پراجیکٹ پر بلوچستان کے دو غیر سرکاری ادارے ترقی فاونڈیشن اور آزت فاونڈیشن عمل درآمد کر رہا ہے۔

امجد رشید
امجد رشید

واِئس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں ترقی فاونڈیشن کے سی ای او امجد رشید نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے تحت بے روزگار ہونے والے لوگوں کو انہی شعبوں میں کام کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں جن میں وہ پہلے سے کام کر رہے تھے۔ جن میں کھیتوں کو لیول کرنا، نالوں کی صفائی، کنووں کی صفائی، پانی کی سپلاِئی کے کاریز سسٹم کی صفائی اور واٹر چینلز کی صفائی شامل ہے۔

جب کہ بے روزگار خواتین کو کچن گارڈننگ کا کام دیا جا رہا ہے۔ جس کے لیے انہیں پہلے کورونا سے بچاؤ کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور انہیں ہائیجین کٹس فراہم کی جاتی ہیں۔

کیش فار ورک
کیش فار ورک

انہوں نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ کے لئے کام کے دوران ایک دوسرے سے فاصلے کے اصول کو مد نظر رکھا جا رہا ہے اور کسی ایک جگہ پر آٹھ سے دس تک لوگوں کو کام کی اجازت ہوتی ہے۔

ان کی تنظیم ڈسٹرکٹ چاغی اور واشوک کی بارہ یونین کونسلوں میں غریب خاندانوں کی مدد کے لئے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ساتھ کام کر رہی ہے جس میں ان کے ساتھ آزات فاونڈیشن بھی شامل ہے۔ جب کہ بلوچستان کی حکومت انہیں صوبائی دارالحکومت سے لے کر ڈسٹرکٹ کی سطح تک مدد فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان خاندانوں کا ڈیٹا گھر گھر جا کر اکٹھا کیا گیا ہے اور ان کی فہرستیں تیار کی گئیں جو ورلڈ فوڈ پروگرام کو فراہم کیں۔ اور ان مزدوروں کو باِئیو میٹرک سسٹم کے ذریعے کیش دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی مدد سے بلوچستان میں بے روزگار ہونے والے لوگوں کو لاک ڈاون کے دوران اپنی گزر اوقات کے لئے نقد رقم فراہم کی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG