رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی یونیورسٹیاں کرونا وائرس کے خلاف سرگرم


رفاع انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد

پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے ایک آن لائن کنسورشیم، کویڈ۔19 ایجوکیشن پروگرام، کے ترجمان اور رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلیٹی ممبر کاشف ظہیر کمبوہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستانی یونیورسٹیاں کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے باہمی تعاون کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہ شکوہ کیا کہ پاکستانی یونیورسٹیاں کرونا کے خلاف آگے نہیں آ رہیں، جب کہ پوری دنیا کی یونیورسٹیاں اپنی ریسرچ اور پالیسی پیپرز کے ذریعے حکومتوں کو گائیڈ لائنز فراہم کر رہی ہیں۔

یونیورسٹی آف سیالکوٹ (یو ایس کے ٹی) کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر، ریحان یونس نے وی او اے کو بتایا کہ اس وقت یہ کنسورشیم یونیورسٹیز کے مختلف سائنسدانوں، ریسرچرز اور پروفیشنل پالیسی لابنگ کرنے والے افراد پر مشتمل ایک مضبوط گروپ بن چکا ہے جو خاموش سپاہیوں کی طرح دن میں 18 گھنٹے کام کر رہا ہے۔

کاشف ظہیر کمبوہ
کاشف ظہیر کمبوہ

انہوں نے کہا کہ پاکستانی یونیورسٹیوں کا ایک کنسورشیم، جس میں، رفاہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی، رفاہ یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، یونیورسٹی آف بلوچستان، یونیورسٹی آف سیالکوٹ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، نواب شاہ اور دیگر اداروں کے سینئر سائنسدان، ڈاکٹرز اور فیکلٹی ممبران شامل ہیں، کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد سے کرونا-19 ایجوکیشن پروگرام کے نام سے بہت سی خدمات انجام دے رہا ہے۔

کاشف ظہیر کمبوہ نے بتایا کہ اس گروپ کے سائنس دانوں نے سب سے پہلے مارکیٹس میں فروخت ہونے والے غیر مستند سینٹائزرز کے برانڈز کی نشاندہی کی جن میں سے 70 فیصد میں ایک ضروری جزو ایتھانول موجود نہیں تھا جس کے لیے متعلقہ اداروں کو اس بارے میں تحریری حکمت عملی پیش کی گئی اور لوگوں کو اس کے متعلق آگاہ کیا گیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں اب کئی برانڈز نے اس پر کام شروع کر دیا ہے، لیکن ابھی اس سلسلے میں کافی کچھ کیا جانا باقی ہے۔

یونیورسٹی آف سیالکوٹ
یونیورسٹی آف سیالکوٹ

انہوں نے بتایا کہ کرونا وائرس سے متعلق ایک اہم مسئلہ مس انفارمیشن اور افواہوں کا ہے، جس کی روک تھام کے لیے یہ کنشوریم سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مستند معلومات لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔ اب کئی لوگ کرونا سے متعلق معلومات شیئر کرنے سے پہلے ہمارے گروپ سے ان کی تصدیق کراتے ہیں۔

یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر، ریحان یونس نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے کرونا وائرس کے خلاف ہر ضلع میں ایک ٹائیگر فورس ٹیم کے قیام کے اعلان کے بعد ان کی یونیورسٹی نے عوامی خدمات کے لیے اپنے 1000 سے زائد سابق طلبا اور دیگر نوجوانوں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی ہے اور اس کامیاب ماڈل کے بعد دوسری یونیورسٹیاں بھی ایسی ہی ٹائیگر فورس ٹیمیں تشکیل دیں گی۔

سیالکوٹ یونیورسٹی کے طالب علم آن لائن لائن کلاسز میں شرکت کر رہے ہیں۔
سیالکوٹ یونیورسٹی کے طالب علم آن لائن لائن کلاسز میں شرکت کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بہت سی یونیورسٹیوں نے لاک ڈاؤن کی صورت حال کے لیے آن لائن تعلیمی نظام تیار کیے ہیں۔ سیالکوٹ کا پروگرام لرننگ مینیجمنٹ سسٹم بہت سادہ، صارف دوست اور مقامی مزاج سے مناسبت رکھتا ہے اور ان کی یونیورسٹی کے سو فیصد طالب علم اب گھر پر ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح رفاہ یونیورسٹی نے بھی اپنا آن لائن نظام معلم تیار کیا ہے۔ یہ تعلیمی ادارے اپنے یہ ماڈل دوسری یونیورسٹیوں سے شیئر کر رہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ طالب علم اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا گروپ مختلف مقامات پر کرونا کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں کو منسلک کرنے کے لیے میڈیکل ڈاکٹروں کی نگرانی میں اینڈروئیڈ ایپ تیار کر چکا ہے جس کے ذریعے تمام ڈاکٹر ایک دوسرے کے ساتھ معلومات اور اپنے تجربات شیئر کر سکیں گے۔ یہ ایپ ایک دو روز میں فعال ہو جائے گا۔

کاشف ظہیر کمبوہ نے بتایا کہ یونیورسٹیوں کے اس آن لائن گروپ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم وینٹی لیٹرز کے قابل عمل ڈیزائن تیار کر چکی ہے جنہیں مقامی سطح پر کم لاگت سے بنایا جا سکتا ہے۔ سیالکوٹ میں جراحی کے آلات تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی اس پراجیکٹ پر سرمایہ کاری کے لئے تیار ہو گئی ہے۔ سیالکوٹ یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی، سرگودھا انڈسٹری اور پٹاک کے ماہرین اس کا پروٹو ٹائپ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

پاکستان انڈسٹریل ٹیکنیکل اسسٹنس سینٹر پٹاک ( PITAC) کے ڈائریکٹر جنرل محمد عرفان ظہیر نے بتایا کہ ان کا ادارہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند پڑا تھا جسے پروٹو ٹائپ بنانے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف سیالکوٹ نے کویڈ۔19 چیلنج کے عنوان سے، کرونا وائرس سے منسلک مسائل کے حل کے لیے کسی بھی فیلڈ کے ایسے قابل عمل پراجیکٹ کے لیے تین لاکھ روپے کے انعامی مقابلے کا اعلان کیا ہے جس سے کم از کم دس ہزار افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG