رسائی کے لنکس

امریکہ: گھروں میں قیام کے احکامات میں ایک ماہ کی توسیع


صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں میں مزید توسیع کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک اعلیٰ طبی ماہر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس سے امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی موت ہو سکتی ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لوگوں کے گھروں میں رہنے اور سماجی دوری برقرار رکھنے کے لیے جاری کردہ ہدایات کی مدت آئندہ ماہ کے آخر تک بڑھا دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی صدر کو اپریل کے وسط سے ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے عندیے پر تنقید کا سامنا تھا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے 'گائیڈ لائنز' پر عمل در آمد کی مدت میں توسیع کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک اعلیٰ طبی ماہر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وبا سے امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی موت ہو سکتی ہے۔

کرونا وائرس کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد ہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی 2489 تک پہنچ چکی ہے۔

اتوار کو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کرونا وائرس سے متعلق بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کرونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بریفنگ کے موقع پر صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے مشیر اور نامور کاروباری افراد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے سے پہلے جیت کا اعلان کردینے سے بدتر کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے فیصلے سے متعلق مزید تفصیلات کے بارے میں منگل کو آگاہ کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر وہ حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہوں گے تو اس وبا پر قابو پایا جاسکے گا۔

امریکہ میں وبا سے سب سے زیادہ نیو یارک متاثر ہوا ہے جہاں 60 ہزار کے قریب کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 965 افراد کی موت ہوئی ہے۔ اسی طرح نیو جرسی میں 13 ہزار جب کہ کیلی فورنیا میں چھ ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 15 روز قبل گائیڈ لائنز جاری کی تھیں جس کے تحت دس سے زیادہ افراد کے اجتماع سے گریز، ہوٹلوں، ریستورانوں اور فوڈ کورٹس میں کھانا کھانے سے احتیاط، بارز میں اکھٹے ہونے سے اجتناب، بڑی عمر کے افراد کا زیادہ تر وقت گھر میں گزارنے جیسی ہدایات شامل تھیں۔

ان ہدایات کی روشنی میں نوجوانوں کے گھر سے باہر نکلنے میں کمی اور اسکولوں میں جانے کے بجائے گھر میں بیٹھ کر پڑھائی کا کہا گیا تھا۔

اتوار کو امریکہ کے 'نیشنل انسٹی ٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز' کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کرونا وائرس سے ایک سے دو لاکھ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے مطابق یہ اندازہ مختلف ماڈلز کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید اقدامات نہ کرنے سے ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے مختلف امراض کے انسداد کے سینٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں 2010 سے 2020 کے درمیان 'فلو' سے 12 ہزار سے 61 ہزار کے درمیان شہری سالانہ موت کا شکار ہوتے رہے ہیں۔

سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے مطابق 19-1918 میں امریکہ میں 'فلو' کی وبا سے چھ لاکھ 75 ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

امریکہ کے اعلیٰ طبی ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی بڑی وجہ لوگوں کے گھروں میں نہ رہنا اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد سے گریز ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں اب تک کیے گئے اقدامات کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ اپریل کے آخر تک ان اقدامات کو جاری رکھنا ایک مثبت اقدام ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے لوگوں کو اس وقت حیران کر دیا تھا جب گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسٹر کی تعطیلات سے پہلے امریکہ میں معمولات زندگی بحال ہوجائیں کیوں کہ ملک طویل شٹ ڈاون کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

صدر ٹرمپ نے لاکھوں امریکیوں کے گھروں تک محدود رہنے کے نتیجے میں معیشت پر پڑنے والے اثرات پر مایوسی کا اظہار کیا تھا جب کہ صحت عامہ کے ماہرین کے برعکس کرونا وائرس اور فلو کا موازنہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم ہر سال فلو کے باعث ہزاروں لوگوں سے محروم ہوتے ہیں لیکن ہر سال ملک کو بند نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں 21 ریاستوں کے گورنرز نے غیر ضروری کاروبار بند اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان 21 ریاستوں میں ملک کے 33 کروڑ شہریوں کی نصف سے زائد آبادی رہتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے ایسٹر تک ملک میں سرگرمیاں بحال کرنے کے بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک خواہش تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "میرے خیال میں اب معاشی سرگرمیاں جون تک مکمل بحال ہو سکیں گی۔"

خیال رہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے لوگوں سے ان کا روزگار چھیننا شروع کر دیا ہے۔ 1982 کے بعد امریکہ میں پہلی بار بے روزگاروں کی تعداد 33 لاکھ کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ کرونا وائرس کے باعث کاروباروں کی بندش ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکہ میں بے روزگاری الاؤنس کے لیے 32 لاکھ 28 ہزار 300 لوگوں نے لیبر ڈپارٹمنٹ میں اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔

بے روزگار ہونے والے درخواست گزار افراد کی تعداد ماضی کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھ چکی ہے جب کہ اس میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کے 190 سے زائد ممالک اور خطوں میں کرونا وائرس کے سات لاکھ 24 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں جب کہ اس سے 34 ہزار اموات ہوئی ہیں۔

عالمی سطح پر وائرس سے اموات کی اوسط چار سے پانچ فی صد ہے تاہم کئی ممالک میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے سے وائرس تیزی سے پھیلا ہے اور ان ممالک میں اموات کی شرح بھی بہت زیاد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG