رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: کئی ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی، معمولات زندگی بحال ہونا شروع


یورپی ملک اٹلی میں چار مئی سے معمولات زندگی پر لگائی گئی پابندیوں کو نرم کرنے گا آغاز ہو گا جب کہ اسپین بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کر چکا ہے۔ (فائل فوٹو)

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے سبب جاری لاک ڈاؤن کے بعد اس مہلک وبا سے متاثر ہونے والے کئی ممالک میں معمولات زندگی ایک بار پھر بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

چین کے دو بڑے شہروں بیجنگ اور شنگھائی میں اسکول کھول دیے گئے ہیں جب کہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ووہان کے اسپتالوں میں موجود کرونا وائرس کے تمام مریض صحت یاب ہو گئے ہیں جنہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

عالمی وبا سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثر والا ملک امریکہ ہے جس کی کئی ریاستوں میں عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ نیویارک کے گورنر نے بھی اشارہ دیا ہے کہ مئی کے وسط سے نیویارک کو جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔

یورپی ملک اٹلی میں چار مئی سے معمولات زندگی پر لگائی گئی پابندیوں کو نرم کرنے گا آغاز ہو گا جب کہ اسپین بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کر چکا ہے۔

سعودی عرب نے مکہ کے علاوہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے کرفیو میں جزوی نرمی کر دی ہے۔

ماہِ رمضان میں پاکستان بھر کی مساجد میں رمضان کے اجتماعات منعقد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بازاروں میں خریداری کے دوران بھی سماجی دوری برقرار نہیں رکھی جا رہی۔

کرونا وائرس نے احتجاج کے طریقے بدل دیے
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:06 0:00

دیگر ممالک کی طرح بھارت بھی بتدریج لاک ڈاؤن ختم کرنے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور بھارت نے ہفتے کے روز دیہی علاقوں اور شہروں کے مضافات میں کاروبار کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

امریکہ کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے صوبہ ہوبی کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جب کہ اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

رمضان کے آغاز پر ملک کے تمام شہروں میں صبح 9بجے اور شام 5بجے کرفیو میں نرمی کی جائے گی اور یہ سلسلہ 13مئی تک جاری رہے گا۔

امریکہ

امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس وبا کے پھیلاؤ میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

امریکی ریاستوں جارجیا، شمالی کیرولائنا اور ٹینیسی میں چند کاروبار کھول دیے گئے ہیں اور گھروں میں قیام کے احکامات میں بھی نرمی کردی گئی ہے۔

اسی طرح کیلی فورنیا اور فلوریڈا نے بھی ساحل سمندر پر نافذ کردہ پابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔ ریاست نیو یارک میں بھی جلد شہریوں کو مقامی فارماسیز میں کرونا وائرس کے ٹیسٹس کرانے کی اجازت ہو گی۔

ریاست میری لینڈ کے گورنر لیری ہوگن کی طرف سے بھی کاروبار اور اجتماعات دوبارہ سے شروع کرنے سے متعلق کہا ہے۔ البتہ واشنگٹن ڈی سی کے میئر مریئل بوزر نے 15 مئی تک لاک ڈاؤن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اٹلی

کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ یورپی ملک اٹلی ہے۔ جہاں لاک ڈاؤن میں چار مئی سے پابندیوں میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اٹلی کے وزیرِ اعظم گوسیپی کونتے نے اتوار کے روز اپنے خطاب میں کہا کہ لوگوں کو اپنے رشتے داروں سے چھوٹے گروپس میں ملنے کی اجازت ہو گی۔ لیکن انہیں فیس ماسکس پہننا ہو گا۔

وزیرِ اعظم گوسیپی نے مزید کہا کہ پبلک پارکس کھول دیے جائیں گے۔ تاہم اسکول ستمبر تک بدستور بند رہیں گے۔

اسپین

یورپی ملک اسپین میں جہاں امریکہ کے بعد سب سے زیادہ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، وہاں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسپین میں اتوار کے روز سے 14 سال سے کم عمر بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔

اسپین میں اتوار کو کرونا وائرس کے شکار 288 افراد ہلاک ہوئے۔ ایک ماہ کے دوران ہلاکتوں کی یہ سب سے کم یومیہ تعداد تھی۔

برطانیہ

کرونا وائرس کا شکار ہونے والے برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن پیر کے روز سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔

برطانیہ میں کرونا وائرس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہے۔ جبکہ اتوار کے روز برطانیہ میں 413 مزید ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ جو کہ رواں ماہ ہونے والی ہلاکتوں کی کم ترین یومیہ تعداد ہے۔

اٹلی میں پارکس کھول دیے جائیں گے۔ تاہم اسکول ستمبر تک بند رہیں گے۔ (فائل فوٹو)
اٹلی میں پارکس کھول دیے جائیں گے۔ تاہم اسکول ستمبر تک بند رہیں گے۔ (فائل فوٹو)

جرمنی

یورپی ملک جرمنی نے بھی سماجی دوری اختیار کرنے اور فیس ماسکس کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہوئے پیر کے روز سے اسکولز اور کاروبار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

سوئیڈن

سوئیڈن نے اپنے ہمسایہ ممالک ناروے اور ڈنمارک کے برعکس لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا۔ تاہم سوئیڈن نے اپنے شہریوں کو سماجی دوری اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔

سوئیڈن میں لگ بھگ 19 ہزار کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ جب کہ 2200 کے قریب افراد کرونا وائرس کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔

چین

چین کے شہر بیجنگ اور شنگھائی کے اسکول کھول دیے گئے ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ووہان کے اسپتالوں سے کرونا وائرس کے تمام مریضوں کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ تاہم ووہان میں پابندیاں ہٹائے جانے کے باوجود شہریوں کے مسلسل کرونا ٹیسٹس کیے جا رہے ہیں۔

روس

روس میں سخت ترین پابندیاں نافذ کیے جانے کے سبب کرونا وائرس سے متاثرہ صرف 270 مریض سامنے آئے۔ جبکہ اس وبا سے کوئی بھی ہلاکت رپورٹ نہیں کی گئی۔ روس میں بھی معاشی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا

چین کے بعد جس ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریض سامنے آئے۔ وہ جنوبی کوریا تھا۔ جہاں اب ایک دن میں 20 سے کم کرونا وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG