رسائی کے لنکس

logo-print

محسن داوڑ اور علی وزیر کی ضمانتیں منظور، رہائی کا حکم


رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر (فائل فوٹو)

پشاور ہائی کورٹ نے پشتون تحفّظ تحریک (پی ٹی ایم) کے گرفتار اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

دونوں اراکینِ قومی اسمبلی کو رواں سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر میں پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر ہونے والی جھڑپ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

اس جھڑپ میں 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

پشاور ہائی کورٹ کے بنوں بینچ میں بدھ کو مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس ناصر محفوظ نے سرکاری وکلا اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد دونوں اراکین اسمبلی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ دونوں اراکینِ قومی اسمبلی ہفتے میں ایک بار متعلقہ تھانے میں رپورٹ کر کے اپنی سرگرمیوں سے آگاہ رکھیں گے، جب کہ انہیں ضمانت کے لیے دس دس لاکھ روپے کے حفاظتی مچلکے بھی جمع کرانا ہوں گے۔

محسن داوڑ اور علی وزیر کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر اور سینئر وکیل لطیف آفریدی عدالت میں پیش ہوئے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف آفریدی نے کہا کہ وہ عدالت میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ ان کے موکلوں کے خلاف درج مقدمات جھوٹے ہیں اور سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ ان کے موکلوں کے خلاف کوئی بھی جرم ثابت نہیں کر سکا۔

شمالی وزیرستان سے رکنِ صوبائی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما میر کلاف نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کی رہائی مشروط ہے۔ انہیں ہر ہفتے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں حاضری دینا ہو گی۔

وکیل لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں دونوں اراکینِ قومی اسمبلی کی ہفتہ وار حاضری کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

یاد رہے کہ پشتون تحفّظ تحریک کراچی میں پشتون شہری نقیب اللہ محسود کے مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کے بعد وجود میں آئی تھی۔ اس کے سربراہ منظور پشتین ہیں۔

پی ٹی ایم قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے، جبری گمشدگیوں کی روک تھام اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرنے کے مطالبات کرتی رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی فوج کا مؤقف رہا ہے کہ یہ تنظیم پشتونوں کی نمائندہ نہیں بلکہ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان نے رواں سال مئی میں اعلان کیا تھا کہ پی ٹی ایم کو دی گئی مہلت ختم ہو گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG