رسائی کے لنکس

logo-print

خڑکمر واقعہ: محسن داوڑ اور علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد


سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر گرفتار ہیں۔ (فائل فوٹو)

بنوں کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پشتون تحفظ تحریک کے ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی درخواست ضمانت ایک مقدمے میں منظور اور ایک میں مسترد کردی ہے۔

شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خڑ کمر میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر گرفتار ہیں جب کہ دیگر ملزمان اب تک گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔

ارکان قومی اسمبلی کی دو درخواستوں کی سماعت انسداد دہشت گردی بنوں کی عدالت میں ہوئی تو اس موقع پر سینئر وکیل اور پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر لطیف آفریدی کی سربراہی میں وکلاء نے درخواستوں کے حق میں جبکہ سرکاری وکلاء نے مخالفت میں دلائل پیش کیے۔

پشتون تحفظ تحریک کے وکلاء کے پینل میں شامل طارق افغان نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خڑ کمر کے واقع کی ایف آئی آر نمبر 14 میں ان کے موکلین کی ضمانت کی درخواست مسترد جبکہ اسی علاقے میں فو ج کی ایک گاڑی پر ہونے والے حملے میں درج ایف آئی آر نمبر 16 میں ضمانت منظور ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان فوج کی گاڑی پر ہونے والے حملے میں تین افسران سمیت چار اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور اس دوران محسن داوڑ اور علی وزیر ر سمیت پشتون تحفظ تحریک کے زیادہ تر کارکن مختلف جیلوں میں قید تھے۔

طارق افعان نے کہا کہ جس مقدمے میں علی وزیر اور محسن داوڑ کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہوئیں، انہیں پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کے خلاف قانون کی خلاف ورزی کرنے پر مقدمات درج کیے گئے ہیں لہذا ان لوگوں کو اس سلسلے میں انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔

دریں اثناء جنوبی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ نے یوم آزادی کے موقع پر ایک جلوس کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگوانے کے الزام میں پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ سمیت 209 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

مقدمے میں نامزد 209 میں سے 200 افراد نامعلوم ہیں۔ تاحال اس مقدمے میں نامزد کسی بھی ملزم کی گرفتاری کے بارے میں کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG