رسائی کے لنکس

logo-print

انسان گھر میں بند، زمین صحت مند


دنیا بھر میں بدھ کو زمین کا دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن منانے کا آغاز 1970 میں ہوا تھا۔ ان 50 برسوں میں کبھی زمین کا ماحول اس قدر بہتر نہیں تھا، ہوا اتنی صاف نہیں تھی، بہتا ہوا پانی اتنا اجلا نہیں تھا، جتنا اس بار ہے۔ اور اس کا سہرا ایک مہلک وائرس کے سر ہے جس نے اربوں انسانوں کو گھر میں بٹھا رکھا ہے۔

دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے اسموگ غائب ہوگئی ہے۔ شمال مشرقی امریکہ میں نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ 30 فیصد کم ہے۔ اٹلی کی فضا گزشتہ سال کے مقابلے میں 49 فیصد صاف ہے۔ رات کو آسمان پر ستارے بہتر دکھائی دے رہے ہیں۔

یہی نہیں، لوگ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ان مقامات اور اوقات میں جنگلی جانور دکھائی دے رہے ہیں، جہاں وہ عام طور پر نظر نہیں آتے تھے۔ امریکی بھیڑیے کویوٹی شکاگو کی مشی گن ایونیو اور سان فرانسکو کے گولڈن گیٹ برج کے قریب گھمتے پھرتے دیکھے جا رہے ہیں۔

سان تیاگو کی گلیوں میں پوما آوارہ گردی میں مصروف پایا گیا ہے۔ ویلز میں پہاڑی بکریوں نے ہلہ بول دیا ہے۔ اور بھارت میں بندر معمول سے زیادہ بہادری دکھاتے ہوئے گھروں میں گھس رہے ہیں، تاکہ کچھ کھانے پینے کو مل جائے۔

ڈیوک یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات اسٹوارٹ پم نے اس صورتحال پر کہا کہ اس بحران نے یہ جاننے کا غیر معمولی موقع فراہم کیا ہے کہ ہم انسانوں نے اپنے خوبصورت سیارے کا کیا حشر کر دیا ہے۔ ہمیں طلسماتی منظر دیکھنے کو ملا ہے کہ اسے کتنا زیادہ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ماحولیات سے متعلق اسٹین فورڈ ووڈز انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کرس فیلڈ نے سائنس دانوں کو اکٹھا کیا ہے، تاکہ انسانوں کے گھر پر رہنے سے ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔ سائنس دان اگرچہ خود بھی گھروں میں بند ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ نباتیات، حشرات، موسم، شور اور روشنی کی آلودگی میں تبدیلیوں کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ اطالوی حکومت ایک سمندری مہم پر کام کر رہی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ انسانوں کے نہ ہونے سے سمندر پر کیا فرق پڑ رہا ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے فضا میں نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ، اسموگ اور چھوٹے ذرات میں ڈرامائی کمی کا پتا لگایا ہے۔ ہیلتھ افیکٹس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اس فضائی آلودگی سے دنیا بھر میں ہر سال 70 لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

ناسا نے 2005 میں ایک مواصلاتی سیارہ خلا میں بھیجا تھا، تاکہ زمین کی فضا میں نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی شرح معلوم کی جا سکے۔ اس کے مطابق، بوسٹن سے واشنگٹن ڈی سی تک 15 سال میں ہوا کبھی شفاف نہیں تھی جتنی اب ہے۔

گزشتہ 5 سال کا ڈیٹا دیکھیں تو مارچ کے مہینے میں پیرس کی فضا میں آلودگی 46 فیصد، بنگلور میں 35 فیصد، سڈنی میں 38 فیصد، لاس اینجلس میں 29 فیصد اور ریو ڈی جنیرو میں 26 فیصد کم تھی۔

شفاف فضا سب سے زیادہ چین اور بھارت میں محسوس کی جارہی ہے، جن کے شہر دنیا کے آلودہ ترین مقامات بن چکے تھے۔ بھارتی شہر جالندھر کے شہریوں نے کئی عشروں بعد اس ماہ 100 میل سے زیادہ فاصلے پر برف سے ڈھکی ہمالیہ کی چوٹیاں دیکھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG