رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کی وبا نے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کیا ہے: ماہرین


نیو یارک میں ری سائکلنگ کے لیے پلاسٹک کا کچرا لے جایا جا رہا ہے۔

ماحولیات کے ماہرین شروع میں اس اعتبار سے خوش تھے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے تازہ ہوا، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی کم ترین سطح اور صاف پانی میسر ہوا ہے۔ لیکن کیا واقعی ماحول میں بہتری پیدا ہوئی ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ملنے لگا ہے۔ اور اس ضمن میں ان ماہرین کی خوش فہمی دور ہوتی جا رہی ہے۔

امریکہ میں مارچ کے وسط میں لاک ڈاون شروع ہوا۔ اس وقت ماحول دوست لوگوں نے دیکھا کہ ماحول میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ مگر جلد ہی ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ کئی مہینوں سے جاری لاک ڈاون نے کوڑے کرکٹ میں کئی گنا اضافہ کیا۔ لوگوں نے آن لائن خریداری کی اور اس کے ساتھ پلاسٹک کے تھیلوں، پلاسٹک کی پٹیاں، فیس ماسک، پلاسٹک کے دستانے اور جانے کتنی چیزوں کے ڈھیر لگ گئے۔ اور صاف ستھرا ماحول ایک خواب بن گیا۔

تھائی لینڈ کے تفریحی مقام پتایا میں ساحل کے قریب ایک لڑکی امارا ویجیہونگ کہتی ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے سمندر کوڑے سے بھرتا جا رہا ہے۔ مقامی ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کہ اپریل میں پلاسٹک کے کوڑے میں 50 فی صد اضافہ ہوا اور اس میں سے 80 فی صد پلاسٹک کے کھانے کے ڈبے، پانی کی بوتلیں، پیالیاں اور پیکٹس تھے۔

اسی طرح امریکہ میں وسط مارچ سے آن لائن خریداری میں 240 فی صد اضافہ ہوا۔ روزانہ پورے ملک میں پلاسٹک کے لاکھوں ڈبوں، تھیلوں، دستانوں اور فیس ماسک جیسی چیزیں گھروں میں پہنچ رہی ہیں۔ ظاہر ہے شہروں میں پلاسٹک کی اشیا کا انبار لگ گیا۔

واشنگٹن ڈی سی کے مضافات کے سینیٹری کمیشن کے لائن ریگینز کہتے ہیں کہ مارچ اور اپریل میں پچھلے سال کے مقابلے میں صرف ایک پمپنگ سٹیشن پر ہم نے دیکھا کہ 17 ٹن وائپس کا اضافہ ہوا۔ یعنی جب اس وبا نے زور پکڑا تو آلودگی میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔

کچھ ریاستوں نے پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔ مگر کرونا وبا کے پیشِ نظر اس پر عمل درآمد کو ملتوی کرنا پڑا، کیوں کہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دوبارہ قابلِ استعمال تھیلے مناسب نہیں ہیں۔

ماحولیات کے تحفظ کے لیے قائم ایک تنظیم 'دی لاسٹ پلاسٹک اسٹرا' کی بانی جیکی نونیز کہتی ہیں کہ جان ہاپکنز یونیورسٹی نے ایک تحقیق کی ہے جس کے مطابق کرونا وائرس پلاسٹک پر زیادہ عرصے زندہ رہتا ہے۔ اس لیے جو گروسری اسٹور کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔

دوسری طرف ری سائیکلنگ کی صنعت تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے سبب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ٹیرا سائیکل کے بانی ٹام سیزسکی کہتے ہیں کہ پہلے ہم کوڑا جمع کرتے ہیں، پھر اس کو صاف کرتے ہیں، اس کے بعد اس کو فروخت کرتے ہیں۔ اس ساری محنت اور لاگت کا انحصار تیل کی قیمت پر ہے۔ کیوں کہ اگر تیل کے نرخ گرتے ہیں تو یہ کاروبار منافع بخش نہیں رہ پاتا۔

ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے ہر سال تقریباً 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے دس برسوں میں پلاسٹک کی پیداوار میں چالیس فی صد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اس کا بہت تھوڑا سا حصہ ری سائیکل ہوتا ہے۔ اس لیے صورتحال مایوس کن ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 64 فی صد امریکی سمجھتے ہیں کہ ماحول کا تحفظ کانگریس کی ترجیح ہونی چاہیے۔ مگر ماحولیات کے ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اس وبا کی وجہ سے آلودگی اور ماحول کا مسئلہ کانگریس کے ایجنڈے سے مشکل سے جگہ بنا سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG